نوجوان قرض اسکیم: حد 25 ملین، عمر 18 سال
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کے لیے کاروباری اور زرعی قرضوں کی زیادہ سے زیادہ حد 7.5 ملین روپے سے بڑھا کر 25 ملین روپے کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اتوار 8 نومبر کو وزیر اعظم یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر اعظم نے خود کی۔ قرضے آسان اقساط پر دیے جائیں گے تاکہ نوجوان اپنا کاروبار شروع کر سکیں یا زرعی سرگرمیاں بڑھا سکیں۔
عمر کی حد18 سال، 292 ارب روپے مختص
اجلاس میں قرض لینے کی کم از کم عمر بھی 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی، تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 کے دوران نوجوانوں کو قرضوں کی مد میں مجموعی طور پر 292 ارب روپے دیے جائیں گے، جس سے اندازاً 2 لاکھ 66 ہزار 700 نوجوان مستفید ہوں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے نومبر 2026 کے درمیان 5 لاکھ 81 ہزار 341 نوجوانوں کو قرضے مل چکے ہیں، جو اس سے پہلے کی دہائی کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔
خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت 30 فیصد قرضے خواتین کے لیے مختص کیے جائیں، تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار ہو سکیں اور کاروباری سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھے۔ وزیر اعظم کے مطابق خواتین کو کاروبار اور زراعت میں زیادہ مواقع دینا حکومت کی ترجیح ہے، اور یہ کوٹہ ان کی مالی آزادی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
قرض کیسے ملے گا اور آگے کیا ہوگا
یہ اسکیمیں نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے اور زرعی منصوبوں کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہیں، اور اب بڑھی ہوئی حد کے ساتھ نوجوان بڑے پیمانے پر تجارتی اور زرعی سرگرمیاں شروع کر سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قرضوں کی فراہمی کا عمل آسان اور شفاف رکھا جائے گا، اور نوجوانوں کو کاروبار کے لیے درکار مالی سہولت بروقت ملے گی۔ اس سے قبل حکومت نے نئی آٹو پالیسی کے تحت بھی گاڑیوں اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی سہولت کا اعلان کیا تھا — تفصیل یہاں پڑھیں: نئی آٹو پالیسی: گاڑیاں سستی، ای وی قرض 1 کروڑ (https://ntmnews.online/?p=4132 ملک کی معیشت پر قرضوں کے مجموعی بوجھ کے بارے میں یہاں پڑھیں: پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں دگنا، 135 ارب ڈالر (https://ntmnews.online/?p=3812)۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، عرب نیوز، ڈیلی پاکستان، پاکستان پوائنٹ (8 نومبر 2026)۔