میر رضا کیس میں بڑا موڑ — جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش کو “تباہ کن ناکامی” قرار دے کر جے آئی ٹی کی سفارش کر دی
کراچی کے میر رضا علی کیس میں بڑا موڑ آ گیا ہے — جوڈیشل کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش کو “تباہ کن ناکامی” (epic failure) قرار دیتے ہوئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی سفارش کر دی ہے۔ رپورٹ منگل 20 اکتوبر کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی جس کے بعد اسے پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا
سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں سنگل ممبر کمیشن نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج میں کوئی شک نہیں چھوڑتے کہ میر رضا علی کو قتل کیا گیا تھا — خودکشی کا پولیس کا مفروضہ بے بنیاد نکلا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے وہ طریقہ کار اپنایا جو عدالتی جانچ پر پورا نہیں اتر سکتا تھا، اور جسمانی شواہد کا ایک نمایاں حصہ متاثر ہو گیا۔
جے آئی ٹی کی سفارش
کمیشن نے خاندان کے جے آئی ٹی کے مطالبے کو تسلیم کرنے کی سفارش کی اور اسے موجودہ غیر معمولی حالات میں “سب سے قابل عمل راستہ” قرار دیا۔ تجویز کے مطابق جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے اور اس میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، سندھ رینجرز اور این سی سی آئی اے کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔
پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش
کمیشن نے مزید سفارش کی کہ پولیس کھلم کھلا اپنی آپریشنل کوتاہیوں کا اعتراف اور معافی مانگے، اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری انضباطی کارروائی شروع کرے۔ ابتدائی 10 دن کی تفتیش میں ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی بھی سفارش کی گئی، تاکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی خلاف ورزی کی جانچ ہو سکے۔
سندھ کابینہ کا فیصلہ اور خاندان کا ردعمل
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس نے رپورٹ پبلک کرنے اور اس کے نفاذ کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ میر رضا کے والد میر حسین نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ خاندان پہلے دن سے جے آئی ٹی کا مطالبہ کر رہا تھا۔
یاد رہے کہ 25 سالہ میر رضا 28 جولائی کی رات کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش اگلے روز گلستان جوہر کے علاقے سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم خاندان نے اسے چیلنج کرتے ہوئے لاش پر تشدد کے نشانات کی نشاندہی کی تھی۔
ذرائع: جیو نیوز، اے آر وائی نیوز، دی ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز، ThePenPK