مغربی صحارا: اقوام متحدہ مشن کا مینڈیٹ ختم ہونے کے قریب

0

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعہ 30 اکتوبر کو مغربی صحارا میں تعینات امن مشن کے مینڈیٹ کی تجدید میں ناکام ہو گئی، جس کے بعد یہ مشن 31 اکتوبر کو اپنے مینڈیٹ کے خاتمے کے دہانے پر آ گیا ہے۔ امریکا اور روس کی جانب سے پیش کی گئی دونوں مسودہ قراردادیں منظور نہ ہو سکیں، جو کئی دہائیوں سے معمول کے مطابق تجدید ہونے والے مشن کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔

ووٹنگ میں کیا ہوا

امریکا کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد میں مشن کا مینڈیٹ ایک سال کے لیے بڑھانے اور اس کا نام تبدیل کر کے “مغربی صحارا میں اقوام متحدہ مشن” رکھنے کی تجویز تھی، جس سے ریفرنڈم کا حوالہ ختم ہو جاتا۔ اس قرارداد کو 11 اراکین کی حمایت ملی، 3 نے اجتناب کیا، لیکن روس نے ویٹو کر دیا۔ اس کے بعد روس کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد، جس میں موجودہ مینڈیٹ کی ایک سالہ تجدید کی تجویز تھی، صرف 3 ووٹ حاصل کر سکی، ایک ووٹ مخالفت میں آیا اور 11 اراکین نے اجتناب کیا، اس لیے وہ بھی منظور نہ ہو سکی۔

تنازع کی جڑ کیا ہے

مغربی صحارا کا تنازع نصف صدی پرانا ہے۔ اس علاقے کے بیشتر حصے پر مراکش کا کنٹرول ہے، جبکہ الجزائر کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔ امریکا کی قرارداد میں مراکش کے خود مختاری کے منصوبے کو مذاکرات کی واحد بنیاد قرار دینے کی تجویز تھی، جسے روس نے یک طرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ حتمی حل دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہونا چاہیے، اور یک طرفہ حل مسلط کرنا تعطل کا باعث بنے گا۔

مینورو مشن کیا کرتا ہے

مینورو، یعنی مغربی صحارا میں ریفرنڈم کے لیے اقوام متحدہ کا مشن، 1991 کی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت قائم ہوا تھا اور اس کا کام فوجی صورتحال کی نگرانی کرنا ہے۔ اس مشن میں 155 فوجی اہلکار شامل ہیں اور رواں مالی سال میں اس کی لاگت 62 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ جنگ بندی نومبر 2020 میں ٹوٹ گئی تھی، جس کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

اب آگے کیا ہوگا

اگر سلامتی کونسل آخری لمحے میں کوئی توسیع منظور نہیں کرتی تو مینڈیٹ 31 اکتوبر کو ختم ہو جائے گا۔ امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکا مینورو اہلکاروں کے منظم انخلا کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ دوسری جانب مراکش کے شاہی دفتر نے مینڈیٹ کی عدم تجدید کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشن کے اہلکار، گاڑیاں اور سازوسامان آنے والے دنوں میں جنوبی صوبوں سے نکل جائیں۔ امدادی تنظیم آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ مینورو کی نگرانی اور کشیدگی کم کرنے کی صلاحیت ختم ہونے سے سیکیورٹی اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے شہریوں اور پرامن حل کے امکانات پر سنگین نتائج ہوں گے۔

پاکستان کا اقوام متحدہ سے تعلق

اقوام متحدہ میں پاکستان نے حال ہی میں طالبان کو سخت انتباہ دیا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کو کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے: https://ntmnews.online/?p=2875

پاکستان نے سلامتی کونسل میں سمندری جہاز رانی کے تحفظ کا معاملہ بھی اٹھایا تھا: https://ntmnews.online/?p=2734

ماخذ: رائٹرز، 30 اکتوبر 2026؛ اقوام متحدہ میڈیا، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *