مدینہ کے بعد نجران پر حوثی میزائل حملہ

0

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے جمعے کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے نجران کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے، جبکہ ایک روز قبل مدینہ منورہ کے علاقے کی طرف آنے والا میزائل بھی تباہ کر دیا گیا تھا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

نجران پر جمعے کا حملہ

سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعے 6 نومبر کو بتایا کہ فضائی دفاع نے نجران کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میزائلوں کی تباہی کے بعد ملبہ گرا، جس سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ مکہ مکرمہ کے علاقے میں ایک ڈرون بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد نے اس ڈرون کی تفصیل نہیں بتائی کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور اس کا ہدف کیا تھا۔

مدینہ کی طرف میزائل اور حوثیوں کی تردید

ایک روز قبل جمعرات 5 نومبر کو اتحاد نے کہا تھا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے مدینہ منورہ کے علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی مار گرایا تھا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سعودی شہری دفاع نے ینبع بندرگاہ کے قریب علاقے میں ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں واقعات آپس میں جڑے ہوئے تھے یا نہیں۔

اتحاد کے ترجمان نے کہا تھا کہ فضائی دفاع نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مدینہ کے علاقے کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ اسی روز مشرقی صوبے کے اوپر ایک حوثی ڈرون بھی مار گرایا گیا تھا۔

حوثی گروپ نے مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حوثیوں نے کہا کہ ان پر لگایا گیا الزام سراسر جھوٹ ہے، اور ان کی کارروائیاں صرف سعودی تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈوں تک محدود ہیں۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بھی اسی موقف کو دہرایا۔

عرب ممالک کی شدید مذمت

مدینہ منورہ کی طرف میزائل کے الزام پر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے جمعرات کو شدید مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اس کوشش کو مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے والی اشتعال انگیزی اور سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کویت نے کہا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مدینہ منورہ کو نشانہ بنانا نہ صرف شہریوں اور مسجد نبوی کے زائرین کے لیے خطرہ ہے بلکہ اسلامی مقدس مقامات کی حرمت پر حملہ ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی حملوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ اردن نے بھی اس کوشش کو مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اشتعال انگیزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔

خطے میں کشیدگی اور پس منظر

یمن 2014 سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ سعودی قیادت والا عرب اتحاد مارچ 2015 سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور حوثیوں نے سعودی علاقے پر بار بار میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

اس سے قبل یکم نومبر کو بھی سعودی عرب میں تین ڈرون مار گرائے گئے تھے، جبکہ 3 نومبر کو مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون روکے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3514

خطے میں کشیدگی صرف سعودی عرب تک محدود نہیں۔ اسی ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں تین مزید تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ برطانوی سمندری سلامتی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار کے بعد سے کم از کم پانچ جہازوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ اکتوبر میں 35 جہاز نشانہ بنے تھے جو جنگ کے کسی بھی مہینے کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار بھی جاری ہے، جس پر تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3867

سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ مملکت کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرتا رہے گا، جبکہ حوثی گروپ کا اصرار ہے کہ وہ مقدس شہروں کو نشانہ نہیں بناتا۔ صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ماخذ: ڈان (6 نومبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون (6 نومبر 2026)، ٹی آر ٹی ورلڈ (6 نومبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *