لاہور ہائیکورٹ: ڈی پی او بھکر کے وارنٹ گرفتاری جاری
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر ضلع بھکر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ 24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ہفتے کے روز ایک تحریری حکم میں یہ وارنٹ جاری کیے، جس میں عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 2021 میں دائر کی گئی ایک درخواست سے جڑا ہے، جو فیصل آباد میں کسٹمز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے اس درخواست پر سماعت کے دوران متعلقہ پولیس افسران کی جانب سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کو سنجیدگی سے لیا اور وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری
وارنٹ کے ساتھ ساتھ عدالت نے ڈی پی او بھکر، ایس پی او اور ایس ایچ او بھکر کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔ تینوں افسران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 26 اکتوبر 2026 تک اپنے تحریری جوابات عدالت میں جمع کرائیں۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ توہین عدالت کے مقدمات کے لیے ایک الگ فائل تیار کی جائے، تاکہ ان معاملات کی کارروائی منظم انداز میں آگے بڑھ سکے۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شاہد نواب چیمہ پیش ہوئے۔
قابل ضمانت وارنٹ کا مطلب کیا ہے؟
قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ افسر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ ضمانت دے کر رہائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ اقدام عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب کوئی فریق بار بار عدالتی طلبی یا احکامات پر عمل نہیں کرتا۔ عدالت کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ عدالتی کارروائی میں حاضری اور احکامات کی تعمیل یقینی بنانا ہوتا ہے۔
توہین عدالت کا شوکاز نوٹس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس نوٹس کے ذریعے عدالت متعلقہ فریق سے پوچھتی ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ جواب موصول ہونے کے بعد عدالت آئندہ لائحہ عمل طے کرتی ہے۔
آئندہ سماعت 26 اکتوبر کو
عدالت نے اس کیس کی سماعت 26 اکتوبر 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔ اس تاریخ تک ڈی پی او، ایس پی او اور ایس ایچ او بھکر کو اپنے جوابات جمع کرانا ہوں گے، جبکہ وارنٹ کی تعمیل کی صورتحال بھی عدالت کے سامنے آئے گی۔
عدالتی احکامات کی تعمیل ریاستی اداروں کے لیے لازم ہوتی ہے، اور اعلیٰ عدالتیں ماضی میں بھی احکامات نظر انداز کرنے والے افسران کے خلاف اسی طرح کے اقدامات کرتی رہی ہیں۔ اس کیس کی آئندہ سماعت میں یہ واضح ہوگا کہ متعلقہ افسران نے عدالتی حکم پر کیا موقف اختیار کیا۔
متعلقہ خبریں: لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی اینٹی کرپشن کی تیسری طلبی کے لیے یہ خبر (https://ntmnews.online/?p=1675) اور عمران خان کی بہنوں کے کیس میں افسران کی طلبی کے لیے یہ رپورٹ (https://ntmnews.online/?p=1544) بھی دیکھیں۔
ذرائع: 24 نیوز۔