صنم جاوید نے خلا کی درخواست دائر کر دی
پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا کارکن صنم جاوید خان نے لاہور کی فیملی کورٹ میں اپنے شوہر سے علیحدگی کے لیے خلا کی درخواست دائر کر دی ہے۔ عدالت نے ابتدائی نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو طلب کر لیا ہے اور کیس کی اگلی سماعت 25 نومبر کو ہوگی۔
وکیل کی تصدیق
صنم جاوید کی قانونی ٹیم کی رکن بیرسٹر خدیجہ صدیقی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ ان کی موکلہ کی جانب سے خلا کی درخواست باقاعدہ طور پر دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست ان کے شوہر عتیق ریاض کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
خدیجہ صدیقی نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ یہ صنم جاوید کا مکمل طور پر نجی اور ذاتی خاندانی معاملہ ہے، اس لیے اس بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ درخواست کی وجوہات عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں اور اس معاملے پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔
درخواست میں کیا کہا گیا؟
دنیا نیوز کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کی کمی کے باعث اختلافات پیدا ہوئے جو وقت کے ساتھ بڑھتے گئے اور ازدواجی زندگی میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ خلا کا ڈگری جاری کر کے نکاح ختم کر دیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق صنم جاوید اور عتیق ریاض کی شادی 22 ستمبر 2009 کو ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔
عدالت کی کارروائی
لاہور فیملی کورٹ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے شوہر عتیق ریاض کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں 25 نومبر تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت اسی روز کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی اور فریقین کے موقف کی روشنی میں مزید کارروائی آگے بڑھائے گی۔
صنم جاوید کا پس منظر
صنم جاوید اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں جہاں وہ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں 9 مئی کے واقعات کے بعد متعدد بار گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف کئی مقدمات میں طویل قانونی جنگ جاری رہی۔ وہ پی ٹی آئی کی نمایاں سوشل میڈیا کارکن کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ان کا کیس پارٹی کے حلقوں میں مسلسل زیر بحث رہا ہے۔
مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4043
آگے کیا ہوگا؟
25 نومبر کو عدالت عتیق ریاض کا جواب سنے گی جس کے بعد کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھے گی۔ صنم جاوید کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4116
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، دنیا نیوز، اے آر وائی نیوز، 24 نیوز — 7 اور 8 نومبر 2026