دفاعی صنعت میں بڑا معاہدہ — پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دوحہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے
پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دفاعی صنعت میں تعاون کی ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دوحہ میں دستخط کریں گے — یہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں قریبی شراکت داری کی طرف ایک نیا قدم ہوگا۔ سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ترکیہ کے وزیر دفاع یاشر گولر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے قطر روانہ ہو گئے ہیں۔
معاہدے کا دائرہ کار
ترکیہ کی دفاعی صنعت کی ایجنسی (ایس ایس بی) کے مطابق متوقع معاہدے میں دفاعی صنعت کا تعاون، دفاعی ٹیکنالوجی، علم کی منتقلی، تربیت اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) شامل ہوں گی۔ معاہدے کی مالی مالیت، نفاذ کا خاکہ اور مخصوص ہتھیاروں کے نظام یا منصوبوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
پس منظر — چاروں ممالک کے موجودہ تعاون
چاروں ممالک پہلے ہی دفاعی شعبے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں: ترکیہ قطر کو بیرقدار ٹی بی 2 ڈرون اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کر چکا ہے، پاکستان کی بحریہ کے لیے کارویٹ استنبول اور کراچی میں تعمیر کیے گئے، اور انڈونیشیا کے ساتھ مل کر کپلان ایم ٹی درمیانے ٹینک تیار کیا گیا۔ ترکیہ کی دفاعی اور فضائی برآمدات 2025 میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو دنیا میں 11 ویں بڑے ہتھیار فراہم کنندہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
قطر کا دفاعی پیداواری مرکز
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر مقامی دفاعی پیداواری مرکز کے قیام کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے — قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم میں یہ بات کہی۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعتی تعاون کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
ذرائع: انادولو ایجنسی، ترکیہ دفاعی صنعت ایجنسی (ایس ایس بی)، بول نیوز