حوثیوں کا سعودی عرب پر نئے حملوں کا دعویٰ — آرامکو تنصیب، شیبہ آئل فیلڈ اور ریاض، ابہا کے ہوائی اڈے نشانہ؛ تیل 110 ڈالر کے قریب
یمن کے ایران حامی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق اہداف میں ینبع میں آرامکو کی تنصیب، شیبہ آئل فیلڈ، ریاض میں کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا اور ابہا ہوائی اڈا شامل ہیں۔ تاہم سعودی عرب نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے اور خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
حوثیوں کا دعویٰ کیا ہے
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق پیر کو اعلان کیے گئے حملے 48 گھنٹوں کے دوران کیے گئے چھ حملوں میں شامل تھے۔ دعویٰ کیے گئے اہداف میں ینبع میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع آرامکو کی تنصیب، شیبہ آئل فیلڈ، کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا (ریاض)، ابہا ہوائی اڈا، کنگ خالد ایئر بیس اور متعدد ریڈار سائٹس شامل بتائی گئیں۔
حوثیوں نے ان حملوں کو صنعاء اور حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا، جن میں ان کے دعوے کے مطابق درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
سعودی تصدیق نہ ہو سکی، اہم سرمایہ کاری کانفرنس ملتوی
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے ان حملوں کی فوری تصدیق نہیں کی اور ایجنسی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکی۔ دریں اثنا سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو، جسے “صحرا میں ڈیووس” کہا جاتا ہے، 2027 تک ملتوی کر دی گئی — تاہم منتظمین کے بیان میں حملوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو 109.55 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 103 ڈالر سے زائد رہی۔ تجزیاتی ادارے کیپلر کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل سات روز کی اوسط کے حساب سے 8.5 ملین بیرل یومیہ رہی، جو اس سے پہلے ہفتے میں 20 ملین بیرل سے زائد تھی — بحری جہاز رانی کو لاحق خطرات کی وجہ سے بڑی کمی۔
(ذرائع: رائٹرز، انرجی نیوز افریقہ، ٹریڈنگ ویو — تمام حملے حوثیوں کے دعوے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی)