جی 20 اٹلانٹا اجلاس بغیر اتفاق رائے ختم
دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس اٹلانٹا میں اہم عالمی سلامتی کے مسائل پر کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا، اور اس کی جگہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدارتی بیان جاری کیا جس میں زیر بحث ترجیحات کا خلاصہ پیش کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ کیوں نہ بن سکا
خبر رساں ادارے اے پی اور دی ویک کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، اجلاس 30 اور 31 اکتوبر کو اٹلانٹا میں ہوا، جس کی صدارت امریکا نے کی جو اس سال جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔ شرکاء روس کی یوکرین جنگ، امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ، امریکی محصولات اور جنوبی بحیرہ چین میں چین کی سرگرمیوں سمیت کئی مسائل پر منقسم رہے۔ اجلاس کے اختتام پر روبیو نے صحافیوں سے کہا کہ “میں آج یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ ہم ان مسائل کے عالمی طور پر قابل قبول حل کے قریب ہیں۔” تاہم انہوں نے کہا کہ جی 20 میں شامل کچھ ممالک ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، خاص طور پر سپلائی چین اور نایاب معدنیات کے شعبے میں۔
گروپ فوٹو کی منسوخی
اجلاس کا آغاز ہی تنازع سے ہوا جب روبیو نے روایتی گروپ فوٹو منسوخ کر دی۔ یورپی سفارت کاروں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا اور تصویر سے بائیکاٹ یا واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی، جو پہلی بار بطور مہمان جی 20 اجلاس میں شریک ہوئے، نے کہا کہ اتفاق رائے کی عدم موجودگی حیران کن نہیں ہے، کیونکہ جاری تنازعات میں ملوث ممالک ایک ہی میز پر موجود تھے۔ چائنا ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں امریکا کی جانب سے جنوبی افریقہ کو مدعو نہ کرنے پر بھی اختلافات پیدا ہوئے، حالانکہ جنوبی افریقہ گزشتہ سال جی 20 کی گردش صدارت کر چکا ہے۔
کن مسائل پر بات ہوئی
صدارتی بیان میں توانائی اور خوراک کی سلامتی، آزادانہ جہاز رانی، محفوظ سپلائی چین اور نایاب معدنیات تک رسائی جیسی ترجیحات درج کی گئیں، لیکن اس میں کوئی مخصوص معاہدہ درج نہیں تھا۔ آخری اجلاس میں آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر، بحیرہ اسود اور جنوبی بحیرہ چین سمیت اہم سمندری راستوں میں آزادانہ جہاز رانی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ روبیو نے ایکس پر لکھا کہ “میں نے اپنے شراکت داروں پر واضح کیا کہ محفوظ سپلائی چین ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم تجارتی راستے تجارت کے لیے محفوظ اور کھلے رہنے چاہئیں۔”
بھارت کا موقف اور کواڈ اجلاس
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے تینوں مکمل اجلاسوں میں کہا کہ “سفارت کاری کو، نہ کہ فوجی طاقت کو، موقع دیا جانا چاہیے” اور ترقی پذیر ممالک ان بحرانوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں جو انہوں نے پیدا نہیں کیے۔ انہوں نے شہری جہاز رانی اور ملاحوں پر حملوں سے ایندھن، خوراک اور کھاد کی فراہمی اور قیمتوں کو خطرہ قرار دیا، اور بین الاقوامی قانون کے تحت آزادانہ جہاز رانی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے موقع پر امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ نے کواڈ کے طور پر بھی ملاقات کی اور نایاب معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، قابل اعتماد مصنوعی ذہانت اور سمندری سلامتی پر ایک زیادہ تفصیلی مشترکہ بیان جاری کیا۔ یہ بیان چار شراکت داروں کی پوزیشن تھی، جبکہ وسیع جی 20 اجلاس صرف صدارتی خلاصے پر ختم ہوا۔
اب نظریں میامی سربراہ اجلاس پر
جی 20 سربراہان کا اجلاس دسمبر میں میامی، فلوریڈا میں ہوگا، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ رپورٹوں کے مطابق، ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی مدعو کیا ہے، لیکن روس نے ابھی شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ سفارت کاروں نے کہا کہ تمام فریقین نے اپنے اختلافات پر قابو پانے کی کوشش پر اتفاق کیا ہے تاکہ میامی سربراہ اجلاس کامیاب ہو سکے۔ تاہم، اٹلانٹا کا نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین جنگ، ایران تنازع، محصولات اور سمندری راستوں جیسے مسائل پر عالمی اتفاق رائے ابھی دور ہے، اور میامی اجلاس میں بھی یہی مسائل حاوی رہیں گے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: لندن میں فلسطین ایکشن مظاہرہ، 139 گرفتار https://ntmnews.online/?p=3043 اور فرانس میں مظاہرے اور منگل کی ناکہ بندی https://ntmnews.online/?p=3010۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، دی ویک، چائنا ڈیلی، یکم نومبر 2026۔