تھرپارکر سانحہ: لواحقین کو 20 لاکھ فی کس معاوضہ

0

تھرپارکر میں ایمبولینس سانحے کے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 20 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات 29 اکتوبر کو جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

یہ سانحہ بدھ کی شب نگرپارکر تحصیل کے علاقے دانو دھاندھل میں پیش آیا تھا، جہاں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے زیر انتظام اسپتال میں ایک ایمبولینس میں آگ لگ گئی تھی۔ مٹھی کے ڈپٹی کمشنر حمید جگیرانی کے مطابق آگ اس وقت لگی جب ایمبولینس میں ایک خاتون مریضہ کے لیے آکسیجن سلنڈر سنبھالا جا رہا تھا۔ وہ خاتون بنیادی صحت مرکز میں بچے کی پیدائش کے بعد پیچیدگیوں کے باعث ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال مٹھی منتقل کی جا رہی تھیں۔

معاوضہ اور انکوائری کے احکامات

وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ کو ہدایت کی ہے کہ محکمہ صحت کے ذریعے واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں دی جائیں اور جاں بحق افراد کی تدفین کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر روانہ کیا ہے تاکہ وہ امدادی کاموں کی نگرانی کریں۔ صدر زرداری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے شفاف انکوائری کی جائے اور آئندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات مضبوط کیے جائیں۔ صدر نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی ہے۔

مقامی ردعمل اور حفاظتی سوالات

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ مقامی رہائشیوں نے تھرپارکر کے اسپتالوں میں سہولتوں کی کمی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جو پاکستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔

حادثے میں متعدد افراد جھلس کر زخمی بھی ہوئے تھے جنہیں مٹھی منتقل کیا گیا ہے۔ اردو پوائنٹ اور اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق چار افراد زخمی ہوئے جبکہ ڈان کی رپورٹ میں ڈپٹی کمشنر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جاں بحق افراد میں اسپتال کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ حکام کی جانب سے حادثے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی رپورٹ انکوائری مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

اس سے پہلے اس سانحے کی ابتدائی خبر یہاں پڑھیں: تھرپارکر: ایمبولینس میں دھماکہ، 10 افراد جاں بحق (https://ntmnews.online/?p=2599)۔ سندھ کی دیگر خبروں کے لیے یہاں پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2026: سندھ حکومت نے اعتراضات مسترد کر دیے (https://ntmnews.online/?p=2523)۔

ذرائع: ڈان، اردو پوائنٹ (اے پی پی) اور تھرسڈے ٹائمز کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس؛ ایوان صدر اور وزیراعلیٰ سندھ کے بیانات۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *