بینکوں کے اوقات آج: رات 8 بجے تک کھلے رہیں گے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو ملک بھر میں ٹیکسوں کی وصولی کے لیے بینکوں کے اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی درخواست پر جاری کردہ ان ہدایات کے تحت ہفتے کو کھلنے والی مخصوص بینک شاخیں سرکاری ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگیاں رات 8 بجے تک وصول کریں گی۔ 31 اکتوبر مہینے کا آخری دن بھی ہے، اور اسی روز انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی ختم ہو رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے کیا حکم دیا ہے
اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق توسیع شدہ اوقات صرف ان شاخوں پر لاگو ہوں گے جو ہفتے کو کھلنے کے لیے پہلے سے مخصوص ہیں۔ یہ شاخیں اپنے معمول کے ہفتہ وار وقت کی بجائے رات 8 بجے تک ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگیاں وصول کریں گی۔ بینکوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو متعلقہ شاخیں معمول کے اوقات سے آگے بھی کھلی رکھیں، تاکہ نیشنل انسٹی ٹیوشنل فیسلیٹیشن ٹیکنالوجیز (نفٹ) سرکاری وصولیوں کی خصوصی کلیئرنگ کر سکے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ڈیجیٹل بینکنگ خدمات بھی بلا تعطل جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بینک کی ہفتہ وار ترتیب کی تصدیق پہلے کر لیں، کیونکہ یہ حکم ہر بینک شاخ کو ہفتے کو کھولنے کا پابند نہیں کرتا، بلکہ صرف مخصوص ہفتہ وار شاخوں پر لاگو ہوتا ہے۔
ایف بی آر کے دفاتر بھی رات 8 بجے تک کھلے
ایف بی آر نے بھی اپنے بڑے ٹیکس دفاتر کے اوقات 31 اکتوبر تک بڑھا دیے ہیں۔ دنیا نیوز کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے تمام لارج ٹیکس پیئر آفسز (ایل ٹی اوز)، کارپوریٹ ٹیکس آفسز (سی ٹی اوز) اور ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتہ 31 اکتوبر کو رات 8 بجے تک کام جاری رکھیں۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ انتظام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو مہینے کے آخری دن سرکاری واجبات جمع کرانے میں آخری وقت کی جلدی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسٹیٹ بینک ماضی میں بھی اہم ادائیگی کے دنوں کے قریب اسی طرح کے توسیع شدہ اوقات کی اجازت دیتا رہا ہے، جب ایف بی آر کو بھاری وصولیوں کی توقع ہوتی ہے۔
ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ بھی آج
اسی روز انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان ڈیلی کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے غلط گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے سخت جرمانوں کی وارننگ دی ہے۔ رپورٹ میں ایف بی آر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تنخواہ دار افراد کی جانب سے غلط بیانی پر واجب الادا ٹیکس کا 75 فیصد تک جرمانہ لگ سکتا ہے، جبکہ ادا نہ کیے گئے جرمانوں پر روزانہ 1000 روپے کی اضافی تاخیری فیس بھی عائد ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس سال فائلنگ کی جانچ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملک بھر کے جائیداد اور اثاثوں کے ڈیٹا سے کی جا رہی ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے تنخواہ دار افراد کو جاری کیے گئے ایڈوانس انکم ٹیکس نوٹسز کا بھی نوٹس لیا ہے۔ تاہم یہ تفصیلات ایف بی آر ذرائع سے منسوب ہیں، اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس اے آئی نظام کا دائرہ کار کیا ہے اور اگر کراس میچ غلط ہو تو فائلر کے پاس کیا چارہ کار ہوگا۔
ٹیکس دہندگان کے لیے عملی نکات
ٹیکس دہندگان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ آج رات 8 بجے تک اپنی مخصوص شاخ میں سرکاری ڈیوٹی اور ٹیکس جمع کرا سکتے ہیں۔ جو لوگ ہفتے کو بینک نہیں جا سکتے، وہ آن لائن بینکنگ کے ذریعے بھی ادائیگی کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اپنے بینک سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ توسیع شدہ اوقات کے بعد کی گئی ادائیگی 31 اکتوبر کو درج ہوگی یا اگلے کاروباری دن کو۔
پیر سے بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال ہو جائیں گے۔ اس ہفتے بینکنگ سیکٹر پہلے ہی مصروف رہا ہے: اسٹیٹ بینک نے اسی ہفتے پالیسی ریٹ بڑھا کر 12 فیصد کیا تھا، اور 29 اکتوبر کو چھوٹے کاروباروں کی مالی معاونت کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل بھی شروع کیا تھا۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری خبریں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.52 ارب ڈالر ہو گئے (https://ntmnews.online/?p=2748) اور شرح سود 12 فیصد: اسٹیٹ بینک نے 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کر دیا (https://ntmnews.online/?p=2050) بھی پڑھیں۔
ماخذ: دنیا نیوز، دی ٹروتھ انٹرنیشنل اور پاکستان ڈیلی کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی ہدایات کے حوالے سے۔