براق: پاکستان کا اردو اے آئی ماڈل، ڈیٹا اب پاکستان میں رہے گا
اسلام آباد سے سیول: پاکستان کا اپنا اردو اے آئی ماڈل
پاکستان اردو اور علاقائی زبانوں کو سمجھنے اور لکھنے والا اپنا قومی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل “براق” تیار کر رہا ہے۔ اس کا اعلان وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے 22 اکتوبر کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ورلڈ بینک کے زیرِ اہتمام عالمی اے آئی اور ڈیجیٹل سمٹ 2026 میں کیا۔
وزیر کے مطابق “براق” کا سب سے بڑا مقصد ڈیٹا خودمختاری ہے — پاکستانی شہریوں اور حکومت کا ڈیٹا اب بیرونِ ملک کے سرورز پر جانے کے بجائے پاکستان کے اندر ہی پروسیس ہوگا۔
براق کیوں بنایا جا رہا ہے؟
وزیر آئی ٹی کے مطابق اردو زبان عالمی ویب کے محض 0.03 فیصد حصے پر مشتمل ہے، اسی لیے دنیا کے بڑے اے آئی ماڈل اردو اور پاکستان کی علاقائی زبانوں میں کمزور ہیں۔ “براق” کا مطلب ہے انگریزی پر کم انحصار کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ایسے اے آئی ٹولز جو اردو اور علاقائی زبانوں میں قدرتی انداز میں بات کر سکیں۔
نام “براق” اسلامی روایت میں اس افسانوی سواری کے نام پر رکھا گیا ہے، جو رفتار اور بلندی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
1 ارب ڈالر کی فنڈنگ اور خودمختار کمپیوٹنگ
“براق” کی حمایت کے لیے پاکستان حکومت نے 2030 تک 1 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے — یہ رقم اے آئی منصوبوں، ریگولیٹری اصلاحات اور سرکاری شعبے میں اے آئی کی تعیناتی پر خرچ ہوگی۔ خاص طور پر فلاح و بہبود، صحت اور ٹیکس نظام میں اے آئی کے استعمال پر توجہ دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت سوورین کمپیوٹنگ پاور (سرکاری زیرِ نگرانی سرورز اور گرافکس پروسیسرز) بھی پاکستان کے اندر لگا رہی ہے تاکہ ڈیٹا پروسیسنگ ملک سے باہر نہ جائے اور ڈیجیٹل خدمات سے حاصل ہونے والی معاشی قدر بھی ملک میں رہے۔
چار ڈیجیٹل بنیادیں
شزا فاطمہ خواجہ نے سمٹ میں کہا کہ “اے آئی آخری تہہ ہے، پہلی نہیں” — یعنی اے آئی صرف اس وقت کام کرے گی جب ڈیجیٹل بنیادیں مضبوط ہوں۔ ان کے مطابق “براق” ان چار بنیادوں پر کھڑا ہوگا:
1. ڈیجیٹل شناخت: نادرا کے ذریعے 10 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی تصدیق شدہ شناخت، جو اب آن لائن بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
2. راست (Raast): اسٹیٹ بینک کا فوری ادائیگیوں کا نظام، جس سے اے آئی کی شناخت شدہ اہل گھرانوں تک ادائیگی پہنچائی جا سکے گی۔
3. واسل (WASL): سرکاری اداروں کے درمیان محفوظ ڈیٹا شیئرنگ کا قومی ایکسچینج پلیٹ فارم۔
4. ڈیٹا گورننس: نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی، جو سرکاری ڈیٹا کی درجہ بندی، شیئرنگ اور تحفظ کے اصول طے کرتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی موجودگی
سیول کی سمٹ 19 سے 22 اکتوبر تک ورلڈ بینک، جنوبی کوریا کی وزارت سائنس و آئی سی ٹی اور وزارت معیشت کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ پاکستان اس موقع پر ڈیجیٹل اور اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا۔
وزیر نے سمٹ کے موقع پر گوگل کے نائب صدر اور ورلڈ بینک کے نائب صدر سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں ٹیکنالوجی تعاون اور ڈیجیٹل شمولیت پر تبادلہ خیال ہوا۔
ابھی رائے قائم نہیں، کام جاری ہے
ٹیک ماہرین کے مطابق “براق” اس وقت اعلان کردہ ایک منصوبہ ہے، نہ کہ مکمل لانچ شدہ پروڈکٹ — اس کی اصل کامیابی اگلے چند برسوں میں عملی تعیناتی اور ڈیٹا کی فراہمی پر منحصر ہوگی۔ تاہم وزیر کا پیغام واضح ہے: فیصلے اے آئی کے ہاتھ نہیں ہوں گے، بلکہ “اے آئی لوگوں کو فیصلے کرنے میں مدد دے گی، فیصلے خود نہیں کرے گی”۔
پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کی مزید خبریں: ای پاسپورٹ 23 اکتوبر سے صرف الیکٹرانک پاسپورٹ اور پاکستان میں 5G کی بڑی توسیع۔
ذرائع: وزارت آئی ٹی کا اعلامیہ (ڈیلی کیپٹل میل)، ٹیک جوائس، کمپیوٹر ورلڈ پاکستان — 22 تا 23 اکتوبر 2026۔