اولیشکی جنگ بندی سے قبل روس کا یوکرین پر الزام

0

روس کی وزارت دفاع نے پیر 26 اکتوبر کو الزام لگایا ہے کہ یوکرین نے 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی مقامی جنگ بندی سے قبل روسی زیر قبضہ قصبے اولیشکی پر توپخانے اور ڈرونز سے بار بار حملے کیے ہیں، جس سے خوراک اور ادویات کی فراہمی اور شہریوں کے انخلا میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے اور یوکرین کی جانب سے اس پر فوری جواب نہیں آیا ہے۔

روس کا دعویٰ کیا ہے؟

روسی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق یوکرین نے 19 اکتوبر سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اولیشکی قصبے پر 18 مرتبہ توپخانے سے فائرنگ کی اور قصبے اور اس کی مرکزی سڑکوں پر 120 سے زائد ڈرون حملے کیے۔ روس کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے امدادی سامان کی ترسیل اور لوگوں کے باہر نکلنے کو روک دیا ہے۔

یہ دعویٰ مکمل طور پر روس کی وزارت دفاع سے منسوب ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اس لیے اس خبر میں اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں، بلکہ روس کے الزام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اولیشکی جنگ بندی کیا ہے؟

یوکرین اور روس نے جمعے 23 اکتوبر کو اولیشکی میں ایک مقامی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو 27 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ اس جنگ بندی کا مقصد امدادی سامان کی فراہمی اور شہریوں کے انخلا کے لیے انسانی راہداریاں کھولنا ہے۔

اولیشکی جنوبی یوکرین کے خیرسون علاقے میں دریائے دنیپرو کے جنوبی کنارے پر واقع روسی زیر قبضہ قصبہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل اس کی آبادی تقریباً 24 ہزار تھی، جو اب کم ہو کر صرف 1700 سے 2000 کے قریب رہ گئی ہے۔ قصبے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، اور شہری مئی 2026 کے آخر سے باقاعدہ خوراک کی فراہمی سے محروم ہیں۔

میلانیا ٹرمپ کا کردار

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اس جزوی جنگ بندی کے معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران اولیشکی کی صورتحال کے بارے میں جاننے کے بعد روسی اور یوکرینی قیادت سے براہ راست رابطے کیے۔

یوکرین کے انسانی حقوق کے کمشنر اور چیف مذاکرات کار دمیترو لوبینٹس نے کہا تھا کہ جنگ بندی 27 اکتوبر سے شروع ہوگی اور کئی دن جاری رہے گی۔ ان کے مطابق پہلے بارودی سرنگیں ہٹائی جائیں گی، پھر امدادی سامان پہنچایا جائے گا اور آخر میں شہریوں کو نکالا جائے گا۔ انہوں نے اس آپریشن کو بتدریج اور انتہائی مشکل قرار دیا تھا۔

یوکرین کا موقف کیا رہا ہے؟

ماضی میں یوکرین روس پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ امداد کو اندر آنے یا لوگوں کو باہر جانے نہیں دیتا۔ اس تازہ روسی دعوے پر یوکرین کی جانب سے فوری جواب سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے اس خبر میں یوکرین کا موقف ابھی نامعلوم کے طور پر درج ہے۔

دوسری جانب یوکرین کی جنرل اسٹاف نے پہلے تصدیق کی تھی کہ یوکرینی افواج انسانی مشن کو آسان بنانے کے لیے جنگ بندی پر عمل کریں گی، اور ضروری احکامات فوجی یونٹوں کو جاری کر دیے گئے ہیں۔ روسی چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے بھی تصدیق کی تھی کہ روسی افواج 27 اکتوبر کو صبح 4 بجے (ماسکو وقت) سے عارضی جنگ بندی پر عمل کریں گی۔

آگے کیا ہوگا؟

اب سب کی نظریں 27 اکتوبر کی صبح پر ہیں کہ کیا جنگ بندی واقعی نافذ ہوتی ہے اور امدادی قافلے اولیشکی تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر جنگ بندی برقرار رہی تو یہ مستقبل میں دیگر انسانی مشنوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتی ہے، جیسا کہ یوکرینی مذاکرات کار نے کہا تھا۔

اسی دوران یوکرین، روس اور امریکا کے مذاکرات کاروں نے نومبر کے پہلے نصف میں ابوظبی میں تکنیکی سطح کے مذاکرات پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: یوکرین: زیلنسکی نے مارشل لا میں 90 دن کی توسیع مانگ لی اور امن مذاکرات کے چند گھنٹے بعد کیف پر روس کا میزائل حملہ۔

ذرائع: رائٹرز (26 اکتوبر 2026)، دی ہندو (24 اکتوبر 2026)، ہرومادسکے (23 اکتوبر 2026)، وائٹ ہاؤس بیان (23 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *