آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ، نیتن یاہو کو دھچکا

0

اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے سابق فوجی سربراہ اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو ملک کی نئی حکومت بنانے کا مینڈیٹ دے دیا ہے، جو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ صدر ہرزوگ نے ہفتے کے روز اپنے فیصلے کا اعلان کیا، جبکہ مینڈیٹ کی رسمی تقریب اتوار 8 نومبر کی شام پانچ بجے یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر ہوگی۔

67 اراکین کی حمایت

صدر ہرزوگ نے تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ مشاورت کے دوران 120 رکنی کنیسٹ کے 67 اراکین نے آئزن کوٹ کی حمایت کی جبکہ نیتن یاہو کو صرف 46 اراکین کی حمایت ملی۔ سات اراکین نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ آئزن کوٹ یاشر پارٹی کے چیئرمین ہیں اور انہوں نے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے مضبوط ترین حریف کے طور پر حصہ لیا تھا۔ ان انتخابات میں کسی بھی فریق کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی۔

28 دن کی مہلت

مینڈیٹ ملنے کے بعد آئزن کوٹ کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوں گے، اور صدر اس مدت میں 14 دن کی توسیع بھی کر سکتے ہیں۔ انہیں 61 اراکین کی اکثریت حاصل کرنی ہوگی۔ تاہم آئزن کوٹ کے سامنے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کی حمایت کرنے والے 67 اراکین کا مطلب 67 نشستوں پر مشتمل حکومتی اتحاد نہیں ہے، کیونکہ ان میں عرب جماعتوں کے 19 اراکین بھی شامل ہیں جن کے ساتھ اتحاد پر اختلافات موجود ہیں۔

آئزن کوٹ کی چار شرائط

آئزن کوٹ نے اپنی مجوزہ قومی ہنگامی حکومت کے لیے چار بنیادی اصول پیش کیے ہیں: اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست کے طور پر تسلیم کرنا، اسرائیل کے اعلان آزادی کی اقدار کو قبول کرنا، تمام شہریوں کے لیے لازمی فوجی یا قومی خدمت، اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا عزم۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ہر اس جماعت کو شامل کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان اصولوں کو قبول کرے۔

نیتن یاہو کا مستقبل

آئزن کوٹ کے حکومت بنانے میں ناکام ہونے کی صورت میں صدر ہرزوگ نیتن یاہو یا کسی اور رکن کو مینڈیٹ دے سکتے ہیں۔ اس دوران نیتن یاہو نگران وزیر اعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہیں گے۔ نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے رہنما ہیں اور تین سالہ جنگ کے بعد ملک گہری سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔

اسرائیل میں آئزن کوٹ کی حمایت کا سلسلہ پہلے ہی سامنے آ چکا تھا جب 67 اراکین نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا (https://ntmnews.online/?p=3824)، جبکہ اس سے قبل اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا تھا (https://ntmnews.online/?p=3677)۔ آئندہ ہفتوں میں اتحاد کی مذاکرات اسرائیل کی سیاسی سمت کا تعین کریں گی۔

ذرائع: رائٹرز، فاکس نیوز، انڈین ایکسپریس، نیوز 18، ملی میل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *