کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی SEZ کا درجہ

0

وفاقی حکومت نے کراچی انڈسٹریل پارک (KIP) کو وفاقی اسپیشل اکنامک زون (SEZ) قرار دے دیا ہے، تاکہ ایکسپورٹ پر مبنی صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو فروغ ملے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ یہ فیصلہ جمعے کو اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زونز کے بورڈ آف اپروولز کے 11ویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔

بورڈ نے کراچی انڈسٹریل پارک کی وفاقی SEZ کے درجے کی درخواست منظور کر لی۔ مجوزہ زون کا مقصد ایکسپورٹ پر مبنی صنعتی سرمایہ کاری راغب کرنا، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی اور ملازمتوں کی تخلیق ہے۔ اجلاس میں صنعتی سرمایہ کاری کو سہولت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتی زمین کے مؤثر استعمال کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

نجی زونز کے لیے یوٹیلیٹی فریم ورک

بورڈ نے نجی طور پر قائم کردہ اسپیشل اکنامک زونز کو حکومتی فنڈنگ سے یوٹیلیٹیز اور متعلقہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے عمومی اہلیت کے معیارات کی بھی منظوری دی۔ یہ منظوری اسپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012 کے تحت دی گئی ہے۔

ان معیارات کے تحت ہر کیس کی بنیاد پر نجی زونز کے مقررہ زیرو پوائنٹ تک سڑک، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں سرکاری خرچ پر فراہم کرنے پر غور کیا جا سکے گا — ایک ایسا قدم جسے صنعتی لاگت کم کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایف بی آر نے حال ہی میں موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی قسطوں میں وصولی کا طریقہ کار بھی جاری کیا تھا، جو صنعتی و کاروباری پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

پنجاب کے لیے لینڈ لیز پالیسی

اجلاس میں پنجاب کے سرکاری شعبے کے اسپیشل اکنامک زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس کے لیے لینڈ لیز پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔ اس پالیسی کا مقصد طویل مدتی لیزنگ کے ذریعے صنعتی زمین کی پیشگی لاگت کم کرنا اور سرکاری صنعتی زمین کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے۔

پالیسی کے تحت کلیدی صنعتی شعبوں اور ایکسپورٹ کی اعلیٰ صلاحیت والی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ فنانس ڈویژن کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد صنعتی سازی کو سہولت دینا، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا اور ایکسپورٹ پر مبنی پیداوار میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی حوصلہ افزائی ہے۔

معیشت کے لیے اہمیت

حکومتی عہدیداروں کے مطابق یہ اقدامات صنعتی زونز کے فریم ورک کو مضبوط بنائیں گے اور سرکاری وسائل و صنعتی زمین کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں گے۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے تناظر میں صنعتوں کی لاگت کم کرنے کے یہ اقدامات کاروباری برادری کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔

ذرائع: ڈان، بزنس ریکارڈر، اے آر وائی نیوز، پاکستان ٹوڈے/پرافٹ — 24 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *