پولیو 2026 — پاکستان میں صرف 6 کیس، افغانستان میں 42
دنیا میں پولیو کے خاتمے کی جنگ اب صرف دو ممالک تک محدود رہ گئی ہے — افغانستان اور پاکستان۔ 2026 میں اب تک جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1 کے 48 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں افغانستان کے 42 اور پاکستان کے صرف 6 کیسز شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار عالمی یوم پولیو، 24 اکتوبر، کے موقع پر سامنے آئے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ افغانستان میں کیسز دوگنا ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے مطابق افغانستان میں 2026 میں 42 کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2025 کے 21 کیسز سے دوگنا ہیں۔ پاکستان میں 2026 میں صرف 6 کیسز سامنے آئے، جو گزشتہ سال کے 31 کیسز کے مقابلے میں بڑی کمی ہے۔ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 2025 میں 52 کیسز تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 99 تھی۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ پیش رفت یکساں نہیں ہے — ایک طرف پاکستان میں کیسز کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف افغانستان میں وائرس کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق رپورٹ ہونے والے کیسز صرف تصویر کا ایک حصہ ہیں، کیونکہ سیوریج کے نمونوں کی ماحولیاتی نگرانی سے بھی وائرس کی موجودگی کا پتا چلتا ہے، چاہے کوئی مفلوج کرنے والا کیس سامنے نہ آیا ہو۔
افغانستان میں مسئلہ کیا ہے؟
افغانستان میں ویکسین کی فراہمی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ اکتوبر 2024 سے گھر گھر ویکسینیشن مہمات نہیں ہو رہی ہیں، اور کوششیں زیادہ تر مساجد اور مخصوص ویکسینیشن مراکز تک محدود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اگست کے جائزے کے مطابق اس طریقے سے کئی بچے، خاص طور پر چھوٹے بچے، ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جنوبی علاقہ وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔
پاکستان کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
پاکستان میں صورتحال مختلف ہے — یہاں گھر گھر ویکسینیشن جاری ہے، لیکن سیکیورٹی خطرات، ویکسینیشن ٹیموں پر حملے، غلط معلومات اور والدین کے انکار جیسے مسائل ہر بچے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوبی خیبر پختونخوا اور کراچی تشویش کے اہم علاقے ہیں۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف حالیہ کوششوں کی ایک مثال 2 نومبر سے شروع ہونے والی مہم ہے، جس میں 97 اضلاع میں 2 کروڑ 39 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف ہے — اس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1677
اسی طرح کراچی ایسٹ میں کیس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے ہنگامی اجلاس بلا کر تحقیقات کا حکم دیا تھا: https://ntmnews.online/?p=1342
پولیو کیا ہے اور بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے پھیلتی ہے۔ زیادہ تر انفیکشنز میں واضح علامات نہیں ہوتیں، لیکن کچھ کیسز میں وائرس اعصابی نظام پر حملہ کر کے ناقابل واپسی فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیو سے ہونے والے فالج کا کوئی علاج نہیں، اس لیے ویکسینیشن ہی سب سے مؤثر بچاؤ ہے۔
1988 سے اب تک دنیا بھر میں جنگلی پولیو وائرس کے کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، لیکن مکمل خاتمے کے لیے وائرس کا پھیلاؤ ہر جگہ رکنا ضروری ہے، نہ کہ صرف کم ہونا۔
آگے کا راستہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل ویکسینیشن، کمیونٹی کا اعتماد، صحت کے کارکنوں کا تحفظ اور قابل اعتماد فنڈنگ ہی وہ عوامل ہیں جو افغانستان اور پاکستان کو آخری فاصلہ طے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ چونکہ وائرس سرحدوں کا احترام نہیں کرتا، دونوں ممالک کے درمیان مربوط ویکسینیشن مہمات انتہائی ضروری ہیں — ایک ملک میں رہ جانے والا وائرس دوسرے ملک میں بھی بچوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماخذ: ٹائمز ناؤ، گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو اور عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے، 25 اکتوبر 2026۔