عمران خان اسپتال منتقلی — پی ٹی آئی توہین عدالت میں جائے گی

0

پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ حکام نے سابق وزیراعظم کو سرکاری اسپتال لے جا کر چند گھنٹوں میں دوبارہ جیل واپس بھیج دیا، جو عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عدالت کے احکامات کے مطابق ان کے ذاتی معالجین اور اہلخانہ کی موجودگی میں طبی معائنہ نہیں کرایا گیا۔ پارٹی کے مطابق عمران خان 73 سال کے ہیں اور اگست 2023 سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں۔ ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں جیل میں اذیت دی جا رہی ہے، تاہم یہ پارٹی اور اہلخانہ کا دعویٰ ہے جس کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔

21 کرکٹ کپتانوں کی اپیل

اس معاملے میں عالمی کرکٹ کی شخصیات بھی بول رہی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ عمران خان کو بروقت اور آزاد طبی دیکھ بھال فراہم کی جائے۔

یہ اپیل اگست 2026 میں لکھے گئے ایک خط کی تجدید ہے، جس پر سنیل گواسکر، کپل دیو، ایلسٹر کک، ایلن بارڈر، گریگ چیپل، اسٹیو وا اور مائیکل ایتھرٹن سمیت 21 کپتانوں کے دستخط تھے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس عمران خان کو صرف چند گھنٹے اسپتال رکھا گیا، انہیں عدالت کے حکم کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری ٹیم نے دیکھا اور “میڈیکلی فٹ” قرار دے کر واپس اڈیالہ بھیج دیا گیا۔

حکومت کا موقف

حکومت کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ان کی بہن اور ان کے معالجین کی موجودگی میں کیا گیا، اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں “میڈیکلی فٹ” قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی بنیادی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور اگر پابندیاں فوری ختم نہ ہوئیں تو پارٹی ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

مزید خبریں: اسد قیصر کی عبوری ضمانت منظور اور حماد اظہر کی فیملی سے ملاقات کیس۔

ماخذ: الجزیرہ (24 اکتوبر 2026)، انڈیپینڈنٹ نیوز پاکستان، 9 نیوز (کرک انفو حوالہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *