شامونڈا وائرس — فرانس میں پہلا انسانی کیس، مریض انتقال کر گیا

0

فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہوا ہے۔ فرانسیسی صحت اور زراعت کی وزارتوں کے مشترکہ بیان کے مطابق، شدید قوت مدافعت سے محروم ایک مریض اکتوبر کے اوائل میں لیون کے ایک اسپتال میں انتقال کر گیا، اور تحقیقات میں اس میں شامونڈا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ رپورٹ 22 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ ایک الگ تھلگ کیس ہے اور اس وقت مزید پھیلاؤ کا امکان کم ہے۔

شامونڈا وائرس کیا ہے؟

شامونڈا وائرس ایک آرتھوبنیا وائرس ہے جو بنیادی طور پر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسے کاٹنے والی مڈجز (Culicoides) نامی چھوٹے کیڑوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ پہلی بار 1965 میں نائیجیریا میں مویشیوں سے دریافت ہوا تھا، اور اس کے بعد سے افریقہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں چھٹپٹ پایا جاتا رہا۔ مویشی اس کے اہم میزبان ہیں، تاہم بھیڑوں، بکریوں، گھوڑوں اور الپاکا میں بھی اس کی تشخیص ہوئی ہے۔

یورپ میں وائرس کیسے پھیلا؟

2026 کی گرمیوں میں یہ وائرس پہلی بار یورپ میں ظاہر ہوا — پہلے جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور مشرقی فرانس کے بیمار مویشیوں کے جینیاتی ٹیسٹ میں، اور پھر 20 اکتوبر تک ایک درجن سے زائد یورپی ممالک میں پھیل گیا، جن میں فرانس، جرمنی، اسپین، آئرلینڈ، اٹلی، بیلجیم، پرتگال اور آسٹریا شامل ہیں۔ فرانس کا کہنا ہے کہ وائرس ممکنہ طور پر موسم بہار سے ہی ملک میں گردش کر رہا تھا۔

مویشیوں میں علامات کیا ہیں؟

  • بخار، دست اور دودھ کی پیداوار میں کمی
  • حمل ضائع ہونا اور جنین کی سنگین خرابیاں
  • گھوڑوں میں بعض اعصابی خرابیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں

جانوروں کی صحت کے عالمی ادارے (WOAH) کے مطابق یورپی اقسام کے طویل مدتی اثرات ابھی واضح نہیں۔

انسانی کیس کی تفصیل

فرانسیسی اخبار لے پروگرے کے مطابق مریض کی عمر 60 کی دہائی میں تھی اور وہ لیون کے قریب رہتا تھا۔ فرانسیسی وزارتوں کا کہنا ہے کہ مشرقی فرانس میں کاٹنے والی مڈج کے ذریعے انفیکشن کا امکان ہے، جہاں موسم بہار اور گرمیوں میں وائرس مویشیوں میں گردش کر رہا تھا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق مریض کی موت سے پہلے اس کی اعصابی پیچیدگیوں کا شامونڈا وائرس سے تعلق “انتہائی ممکن” ہے، تاہم کلینیکل، حیاتیاتی اور وبائیاتی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

عام عوام کے لیے خطرہ؟

فرانسیسی حکام اور ECDC دونوں کا کہنا ہے کہ “عام آبادی کے لیے صحت کا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا”۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق قریبی متعلقہ وائرسوں کی منتقلی کے علم کی بنیاد پر یہ ایک الگ تھلگ انسانی کیس ہے اور اس وقت وسیع پھیلاؤ کا امکان نہیں۔ حکام اس کیس کو وسیع وباء کے ثبوت کے بجائے ایک غیر معمولی واقعہ سمجھ رہے ہیں، کیونکہ مریض شدید قوت مدافعت سے محروم تھا اور پہلے سے سنگین بیماری میں مبتلا تھا۔

ذرائع: رائٹرز (ایس آر این نیوز)، اے نیوز، میڈیکل نیوز پاکستان، فرانسیسی وزارت صحت و زراعت کا مشترکہ بیان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *