تہران مذاکرات: سعودی، پاکستان، ترکیہ ایران سے ملے

0

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے پیر 26 اکتوبر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی تاکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کم کی جا سکے۔ خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ ملاقات اس جنگ کے بعد ایران اور مکہ معاہدے کے تین رکن ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے جو فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی اور پھر سعودی عرب اور یمن تک پھیل گئی تھی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکنا ہے۔

ملاقات میں کیا طے کرنے کی کوشش ہوئی

سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تہران کا دورہ مذاکراتی چینلز کھولنے کے لیے کیا گیا تاکہ فوجی کشیدگی دوبارہ شروع نہ ہو۔ رپورٹس کے مطابق وفد میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن کی شمولیت کی توقع ظاہر کی گئی تھی، تاہم تہران میں ہونے والی ملاقات کے شرکا کی حتمی فہرست سامنے نہیں آئی ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر نئے حملوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے ریاض کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل روک لیا ہے، جب کہ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شہر کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی پس منظر میں مصر کی پارلیمنٹ نے بھی سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی ہے، جس کی تفصیل ہماری پہلی خبر میں موجود ہے۔

مکہ معاہدہ کیوں اہم ہے

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد یہ تینوں ممالک خطے کی سلامتی کے معاملے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ایران سے براہ راست بات چیت کو کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس سے پہلے بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی خبریں بھی آتی رہی ہیں، اور اب تہران میں ہونے والی یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

امریکا کا موقف اور آبنائے ہرمز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات کہا تھا کہ ایران پر اس وقت کوئی امریکی حملہ نہیں ہو رہا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ فوجی کارروائی ممکن ہے اور معاہدے کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کے حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آ چکی ہے کہ اگر صدر حکم دیں تو امریکی افواج 96 گھنٹوں کے اندر ایران پر بڑی کارروائی کے لیے تیار ہیں، جس کی تفصیل ایران پر امریکی حملہ: 96 گھنٹے میں بڑی کارروائی تیار (https://ntmnews.online/?p=2063) میں پڑھیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام جنگ سے پہلے والے معمولات پر واپس نہیں جائے گا۔ ایران کے پاکستان میں سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ تہران جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت بات چیت کے لیے تیار ہے اور اگر واشنگٹن بحری ناکہ بندی اٹھا لے تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ تاہم وسیع تر معاہدے پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات ابھی برقرار ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

تہران مذاکرات کے بعد سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا یہ رابطہ کسی ٹھوس معاہدے یا کشیدگی میں کمی میں بدلتا ہے یا صرف ایک سفارتی اشارہ ثابت ہوتا ہے۔ اسرائیل میں منگل 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں، اور امریکا میں بھی آئندہ فیصلوں کا انتظار ہے، اس لیے آنے والے دن خطے کے لیے انتہائی حساس قرار دیے جا رہے ہیں۔ تہران میں آج کی ملاقات کی پیش گوئی تہران مذاکرات آج، سعودی حکام کی تصدیق (https://ntmnews.online/?p=2030) میں پہلے ہی شائع کی گئی تھی، اور اب ملاقات کے انعقاد کی خبر اس کا تازہ ترین اپ ڈیٹ ہے۔

ماخذ: رائٹرز/ہارٹز، نیوز 18، گلف نیوز — خبر کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی رپورٹس سے لی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *