ایران نے میزائل رینج کی حد ختم کر دی
ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج پر عائد 2000 کلومیٹر کی خود ساختہ حد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ہفتہ 7 نومبر 2026 کو تہران میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ “یہ پابندی ہمارے لیے ختم ہو گئی ہے۔” یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے علاقے میں امریکا کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محبی کا اعلان کیا تھا
محبی پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس ہفتے کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سپریم لیڈر کی ہدایت کے بعد میزائل رینج کی حد ختم ہو گئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ایران کے پاس فی الحال ایسے میزائل موجود ہیں جو 2000 کلومیٹر سے آگے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ محض بیانات سے نہیں بلکہ میدان عمل میں کرے گا۔
2000 کلومیٹر کی حد کی تاریخ
ایران کی جانب سے میزائل رینج کی یہ حد 2017 میں پہلی بار تسلیم کی گئی تھی، جب اس وقت کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے اس کا ذکر کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسے ایک سوچی سمجھی خود ساختہ حد قرار دے چکے ہیں۔ 2000 کلومیٹر کی رینج میں یونان اور بلقان کے کچھ حصے، پورا جزیرہ نما عرب، مشرق وسطیٰ کا ساحلی علاقہ اور مصر کا بیشتر حصہ شامل ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کے پاس اس حد سے آگے جانے والے میزائل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور اس نے کبھی عوامی طور پر ایسا میزائل دکھایا بھی نہیں ہے۔
سپریم لیڈر کی ہدایت اور کشیدگی کا پس منظر
یہ اعلان سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اس ہدایت کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کے خطرے کا جواب بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا۔ محبی نے کہا کہ ایران غیر متناسب جنگ کے ذریعے دشمن کو غیر متوقع مقامات پر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 نومبر کو آبنائے ہرمز کے قریب قشم جزیرے کے پاس ایرانی فضائی دفاعی تنصیب پر محدود امریکی حملے کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد دوسری رات بھی قشم جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات آئیں۔ ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک تجارتی ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
آگے کیا ہوگا
ایران کے اس اعلان سے خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو زیادہ دور تک مار کر سکیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلان اور عملی صلاحیت میں فرق ہے، اور ایران کو اپنی اس صلاحیت کو ثابت کرنے کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا ہوگا۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس اعلان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید پڑھیں:
https://ntmnews.online/?p=4054
https://ntmnews.online/?p=3963
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، آئی ایس این اے اور ٹائمز آف انڈیا، 7 نومبر 2026۔