ایل پی جی نیلامی: 90 فیصد پیداوار شفاف نیلامی میں
حکومت نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی تقسیم کا نظام بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کا 90 فیصد حصہ اب شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا، جبکہ 10 فیصد حصہ سرکاری کمپنیوں کو دور دراز اور مشکل علاقوں کی فراہمی کے لیے دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہفتے 7 نومبر کو ایل پی جی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد سپلائی کی کمی دور کرنا اور صارفین کو سرکاری نرخ پر گیس فراہم کرنا ہے۔
نیا نظام کیا ہے؟
ایل پی جی کمیٹی کا پہلا اجلاس پیٹرولیم سیکریٹری کی صدارت میں ہفتے کو ہوا۔ اس اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے 4 نومبر کو منظور شدہ شفاف نیلامی کے نظام کو عملی جامہ پہنانے پر غور کیا گیا۔ نئے نظام کے تحت مقامی پیداوار کا 90 فیصد حصہ میڈیا کی موجودگی میں کھلی اور شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں حصہ لے سکیں اور مقابلہ بڑھے۔ ہر کمپنی کو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی دی جائے گی تاکہ کوئی ایک کمپنی سارا اسٹاک نہ خرید سکے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی کی مناسب قیمت اور بہتر دستیابی حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق نیا نظام سپلائی چین کو مضبوط کرے گا، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور مقامی ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے گا، خاص طور پر کمزور طبقے کے صارفین کے تحفظ کے ساتھ۔
سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں فرق
ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 294.08 روپے فی کلو مقرر کی ہے، جو اکتوبر کے 279.34 روپے سے 14.73 روپے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 173.86 روپے بڑھ کر 3,470.09 روپے ہو گئی ہے۔
لیکن بازار میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ لاہور میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ کراچی میں صارفین 500 سے 540 روپے فی کلو ادا کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں قیمتیں 700 سے 800 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں، اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں 750 روپے فی کلو تک کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ پر ایل پی جی دستیاب ہی نہیں ہے اور انہیں کھلی مارکیٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
مستحق صارفین کے لیے سبسڈی
حکومت نے مستحق صارفین کے لیے ایل پی جی پر سبسڈی کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے اہل صارفین کو ایل پی جی 300 سے 350 روپے فی کلو کے نرخ پر فراہم کی جائے۔ اس سبسڈی کی مالی معاونت نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے قائم کیے جانے والے پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ اور کمزور صارفین کے تحفظ کے فنڈ سے کی جائے گی۔
حکومت نے چار سرکاری اداروں — پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس ایل پی جی اور پارکو ایل پی جی — کو ایل پی جی کی درآمد کا کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان اداروں کو سعودی عرب اور عمان سے سپلائی کی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں۔ سعودی آرامکو کا کنٹریکٹ پرائس 756 ڈالر فی ٹن ہے، جو مارچ 2026 میں 540 ڈالر فی ٹن تھا۔ وزیر کے مطابق درآمدی ایل پی جی کی مقامی قیمت تقریباً 450 سے 500 روپے فی کلو بنے گی۔
سردیوں میں سپلائی کا چیلنج
ایل پی جی کی قلت سردیوں سے پہلے ہی سنگین ہو چکی ہے۔ مغربی سرحدوں سے سپلائی میں رکاوٹ اور ایران سے درآمدات متاثر ہونے کے باعث ملک بھر میں ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے تسلیم کیا کہ سردی کا عروج دسمبر اور جنوری میں ہوگا، اس لیے حکومت نے وقت سے پہلے اقدامات کیے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اوگرا مقامی اور درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا بند کر دے گی اور قیمتیں مارکیٹ کے مقابلے سے طے ہوں گی۔
توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ایک اور پہلو بجلی کے نرخ ہیں — نیپرا نے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2.37 روپے فی یونٹ مہنگی کی تھی، تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4097
پاکستان میں گیس کے بحران کی مکمل تصویر کے لیے ہماری یہ رپورٹ بھی پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4146
صارفین کو اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا نیلامی نظام کب سے عمل میں آتا ہے اور کیا اس سے بازار میں ایل پی جی کی قیمتیں واقعی کم ہوتی ہیں یا نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پہلی نیلامی جلد منعقد کی جائے گی، تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان کی 4، 7 اور 8 نومبر 2026 کی رپورٹس