غزہ میں بارش: 70 ہزار خیمے ڈوب گئے، ہزاروں بے گھر
غزہ میں موسم سرما کے پہلے طوفان کے دوران شدید بارش سے بے گھر فلسطینیوں کے تقریباً 70 ہزار خیمے ڈوب گئے ہیں، جس سے ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق بارش کے پہلے 12 گھنٹوں میں ہی یہ نقصان ہوا، جبکہ ابتدائی نقصان کا تخمینہ تقریباً 30 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔
بارش جمعے 6 نومبر کی رات سے شروع ہوئی اور ہفتے 7 نومبر تک جاری رہی۔ غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے مطابق اس دوران تقریباً 1,500 امدادی کالیں موصول ہوئیں، اور کئی پناہ گاہوں میں پانی کی سطح 30 سے 40 سینٹی میٹر تک بلند ہو گئی۔
خیموں میں پانی، کمبل اور بستر بھیگ گئے
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق بارش سے خیمے بہہ گئے اور کمبل و گدے بھیگ گئے۔ شمالی غزہ میں بارش کے باعث ایک کمزور دیوار گرنے سے دو فلسطینی زخمی بھی ہوئے، جبکہ حکام کے مطابق کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
متاثرہ علاقوں میں غزہ شہر کی بندرگاہ کے اطراف، دیر البلاح کے مغرب، نصیرات پناہ گزین کیمپ کے شمال، جبالیہ اور بیت لاہیا شامل ہیں۔ المواسی کے ساحلی علاقے میں بھی بارش جاری رہی، جہاں 9 لاکھ سے زائد بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔
امدادی نظام شدید دباؤ میں
غزہ کی میونسپل اور شہری دفاعی حکام کے مطابق ایندھن کی کمی اور آلات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث طوفان سے نمٹنا مشکل ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار بے گھر فلسطینی سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں رہ رہے ہیں، جبکہ برسات کے موسم میں 2 لاکھ 94 ہزار سے زائد خاندانوں کو پناہ کی مدد درکار ہے۔
غزہ کی ایمرجنسی کمیٹی کے مطابق دس لاکھ سے زائد بے گھر افراد کو سخت سردی کا سامنا ہے، اور علاقے کو فوری طور پر تقریباً 2 لاکھ خیموں اور حرارتی سامان کی ضرورت ہے۔ بارش سے جنگ میں تباہ ہونے والی عمارتیں بھی خطرے میں ہیں، جن کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کے بعد بھی بحران برقرار
غزہ میں 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، جو اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے بعد آئی۔ تاہم حکام کے مطابق تعمیر نو میں اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، اور 16 لاکھ سے زائد فلسطینی اب بھی خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں سردی گزار رہے ہیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے اس صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ گزرگاہوں کی بندش اور پناہ و تعمیراتی سامان کی روک تھام نے بحران کو بڑھایا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کی امداد سے متعلق ایجنسی کوگیٹ نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ طوفان صرف غزہ تک محدود نہیں رہا — مشرقی بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں بھی شدید بارشیں ہوئیں، جس سے اسرائیل کے ساحلی شہروں میں سیلاب، بجلی کی بندش اور سڑکوں کی بندش کی اطلاعات ملی ہیں۔
غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے موقف پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1459
غزہ کے لیے عالمی بندرگاہ ہڑتال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2775
ماخذ: الجزیرہ، ہارٹز اور اے ایف پی، 7 نومبر 2026