ای سی پی کا عطا اللہ تارڑ کو نوٹس، NA-77 نتیجہ خطرے میں

0

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزیر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ حتمی فیصلے تک حلقے کا نتیجہ روکا بھی جا سکتا ہے۔ یہ کارروائی پولنگ سے صرف ایک روز قبل سامنے آئی ہے، کیونکہ این اے 77 اور پی پی 203 میں ضمنی انتخابات 8 نومبر کو ہوں گے۔

نوٹس کیوں جاری ہوا؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق میڈیا رپورٹس کے مطابق عطا اللہ تارڑ ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے میں پہنچے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار راشد بشیر ورک کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق وفاقی وزراء سمیت کوئی بھی سرکاری عہدہ دار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔

الیکشن کمیشن کے پنجاب دفتر کے مطابق ضلعی مانیٹرنگ افسر نے وزیر کو نوٹس جاری کیا ہے۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق تارڑ کی مہم میں شرکت ضابطہ اخلاق کی شق 18 اور 41 کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے ساتھ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 کے تحت بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے، جو مہم کے ممنوعہ دورانیے میں انتخابی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔

الیکشن کمیشن نے کیا حکم دیا؟

الیکشن کمیشن نے ضلعی مانیٹرنگ افسر اور ضلعی ریٹرننگ افسر سے معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کمیشن نے وزیر اطلاعات کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنا موقف واضح کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق تارڑ کو 8 نومبر کو صبح 11 بجے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ہونے تک این اے 77 کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ اس لیے اہم ہے کہ پولنگ کل ہو رہی ہے اور نتیجے کے اعلان میں تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

این اے 77 کی نشست کیوں خالی ہوئی؟

این اے 77 گوجرانوالہ ون کی نشست پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ وہ طویل علالت کے بعد 11 ستمبر کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کے بیٹے راشد بشیر ورک اس ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔

پی پی 203 ساہیوال چھ کی نشست بھی اسی طرح ایک مسلم لیگ ن کے رکن کی وفات کے بعد خالی ہوئی ہے۔ دونوں حلقوں میں پولنگ 8 نومبر کو ہو گی۔ یہ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی تاحال “مبینہ خلاف ورزی” کے مرحلے پر ہے، اور تارڑ کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔

سیکیورٹی انتظامات

دونوں حلقوں میں پرامن پولنگ کے لیے پاکستان آرمی اور پنجاب رینجرز کے اہلکار 7 سے 9 نومبر تک تعینات رہیں گے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی گئی ہے۔ ضمنی انتخابات میں آرمی اور رینجرز کی تعیناتی https://ntmnews.online/?p=3769 فوج اور رینجرز بالترتیب دوسرے اور تیسرے درجے کے جوابی دستوں کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

آگے کیا ہوگا؟

پولنگ 8 نومبر کو ہو گی اور تارڑ کو اسی روز صبح 11 بجے کمیشن کے سامنے پیش ہونا ہے۔ الیکشن کمیشن کی تحقیقات اور رپورٹ کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا نتیجہ فوری طور پر جاری کیا جائے گا یا روکا جائے گا۔ مسلم لیگ ن یا وزیر اطلاعات کی جانب سے اس نوٹس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

انتخابات سے متعلق مزید خبروں کے لیے نیوزی لینڈ عام انتخابات کے ابتدائی نتائج https://ntmnews.online/?p=4025 بھی پڑھیں۔

ماخذ: ڈان، ڈیلی قدرت — 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *