بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 4 فیصد کر دی
بینک آف انگلینڈ نے تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار شرح سود میں اضافہ کر کے اسے 4 فیصد کر دیا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث مرکزی بینک نے قرضے مہنگے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 8 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے شرح سود 3.75 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک رکن کیتھرین مین نے تو نصف فیصد اضافے یعنی 4.25 فیصد کی حمایت کی تھی۔ یہ اگست 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔
مہنگائی 5 فیصد تک جا سکتی ہے
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ شرح سود میں اضافہ ضروری ہو گیا تھا۔ بینک کے مطابق برطانیہ میں مہنگائی اس وقت 3.5 فیصد ہے، جو اگلے سال کے وسط تک تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے — بینک کے 2 فیصد کے ہدف سے دگنا سے بھی زیادہ۔
بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع برقرار رہا تو کم از کم ایک اور اضافہ بھی ممکن ہے۔ تاہم بیلی نے واضح کیا کہ اس فیصلے کو شرح سود میں مسلسل اضافوں کے سلسلے کی شروعات نہ سمجھا جائے، اور آئندہ فیصلے آنے والے اعداد و شمار پر منحصر ہوں گے۔
معیشت کی پیش گوئی بہتر
بینک آف انگلینڈ نے معیشت کی پیش گوئی بھی بہتر کر دی ہے۔ بینک کے مطابق برطانوی معیشت 2026 میں 1.6 فیصد اور 2027 میں 1.3 فیصد کی شرح سے بڑھے گی، جو جولائی کی پیش گوئی (دونوں سال 1.1 فیصد) سے بہتر ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کے بڑے مرکزی بینک ایک ہی سمت میں جا رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک بھی مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز سے شرح سود بڑھا چکے ہیں، اور رواں ہفتے آسٹریلیا کے ریزرو بینک نے بھی 2026 میں پانچویں بار شرح سود بڑھائی ہے۔
عام برطانوی شہری پر اثر
شرح سود میں اضافے کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں رہن (مورگیج) اور قرضے مزید مہنگے ہو جائیں گے، جو پہلے سے مہنگائی سے پریشان گھرانوں پر مزید بوجھ ڈالے گا۔ وزیر اعظم اینڈی برنہم مہنگائی کم کرنے کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے، اور یہ فیصلہ ان کی حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
دوسری جانب بینک کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود نہ بڑھائی جاتی تو مہنگائی مزید بگڑ سکتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں توانائی کی قیمتیں اور تنخواہوں میں اضافے کی رفتار ہی طے کرے گی کہ بینک مزید اضافہ کرتا ہے یا نہیں۔
عالمی مارکیٹوں میں بھی ہلچل جاری ہے، اور وال اسٹریٹ میں تاریخی مندی پر ہماری خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3839 ۔ پاکستان میں بھی معیشت کی صورتحال پر بیرونی قرضہ 135 ارب ڈالر ہونے کی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3812
ماخذ: ڈان، رائٹرز، فری ملیشیا ٹوڈے، دی اکنامک ٹائمز — 6 نومبر 2026