ٹک ٹاک پر پابندی کی خبر جعلی، پی ٹی اے کی وضاحت

0

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کر دیا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا نوٹیفکیشن جعلی ہے اور ٹک ٹاک پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ پی ٹی اے نے جمعرات 5 نومبر 2026 کو اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ اس نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور گردش کرنے والی معلومات جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔

جعلی نوٹیفکیشن میں کیا دعویٰ کیا گیا تھا

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی نوٹیفکیشن پر 4 نومبر 2026 کی تاریخ درج تھی اور اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی اے نے قومی سلامتی، امن عامہ اور بچوں و نوجوانوں کے تحفظ کے مفاد میں ٹک ٹاک پر فوری پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن دیکھتے ہی دیکھتے واٹس ایپ، فیس بک اور ایکس پر ہزاروں بار شیئر ہو گیا اور لاکھوں صارفین پریشان ہو گئے کہ کیا ان کی پسندیدہ ایپ بند ہونے والی ہے۔

پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر اپنے باضابطہ اکاؤنٹ سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور گردش کرنے والی معلومات جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں آگے شیئر کریں۔

پی ٹی اے کی عوام کو ہدایت

پی ٹی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری ٹیلی کام خدمات اور ریگولیٹری فیصلوں سے متعلق درست معلومات صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور اس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے حاصل کریں۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ بغیر تصدیق کے کسی بھی نوٹیفکیشن یا اعلان کو سرکاری فیصلہ نہ سمجھا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی نوٹیفکیشن اس لیے تیزی سے پھیلا کیونکہ ماضی میں ٹک ٹاک پاکستان میں کئی بار عارضی طور پر بند ہو چکا ہے، اس لیے لوگوں کو یہ خبر سچ لگی۔ تاہم اس بار پی ٹی اے نے چند گھنٹوں میں ہی وضاحت جاری کر کے افواہ کو ختم کر دیا۔

ٹک ٹاک پر ماضی کی پابندیاں

ٹک ٹاک پاکستان میں ماضی میں غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی شکایات پر کئی بار عارضی پابندی کا شکار رہا ہے۔ آخری بار 19 نومبر 2021 کو پلیٹفارم کی جانب سے مواد پر قابو پانے کی یقین دہانی کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی معطلی ختم کر کے سروس بحال کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے ٹک ٹاک پاکستان میں مسلسل دستیاب ہے اور اس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

ٹک ٹاک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پلیٹفارم نے اپریل سے جون 2026 کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ 32 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائیں، جن میں سے تقریباً 95 فیصد مواد پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا گیا۔

صارفین کے لیے اگلا قدم

پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ٹک ٹاک پر کسی نئی پابندی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن زیر غور ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ ایپ کے حوالے سے کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ یا تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے تصدیق کر لیں۔

مزید پڑھیں: سمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندی — https://ntmnews.online/?p=3767
مزید پڑھیں: پاکستان میں یوٹیوب کے 9.6 کروڑ صارفین — https://ntmnews.online/?p=3665

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور اردو پوائنٹ، 5 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *