سندھ: عالمی بینک کے 3.85 ارب ڈالر کے منصوبوں کا جائزہ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر 3 نومبر 2026 کو عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری 12 منصوبوں کے 3.849 ارب ڈالر کے پورٹ فولیو کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو عملدرآمد تیز کرنے، رکاوٹیں دور کرنے اور مقررہ مدت میں اہداف مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ نے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے ساتھ کی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق زیر جائزہ 12 فعال منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3.849 ارب ڈالر مختص ہیں، جن میں سے اب تک 2.334 ارب ڈالر جاری ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 1.51 ارب ڈالر ابھی جاری ہونا باقی ہیں۔ اجلاس میں منصوبوں کی مالی اور خریداری کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، اور مالی سال 2026-27 کے لیے 381.2 ملین ڈالر کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جسے بڑھا کر 434.2 ملین ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اب تک رواں مالی سال میں صرف 43.2 ملین ڈالر جاری ہو سکے ہیں۔
کراچی کا پانی اور سیوریج منصوبہ
اجلاس میں 240 ملین ڈالر کے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی ٹو) کا خصوصی جائزہ لیا گیا، جس میں کے فور سے منسلک سہولتوں پر توجہ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سہولتوں کے ماحولیاتی اور سماجی دستاویزات تیار کر کے عالمی بینک کو منظوری کے لیے بھیج دیے گئے ہیں، جبکہ تعمیل کی نگرانی جاری ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ دھابیجی رائزنگ مین کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ کلورینیشن اسٹیشنز کو منتقل کر کے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ صوبہ نگر اور عیسیٰ نگری میں پانی اور سیوریج کے کام بالترتیب 15 نومبر اور 31 دسمبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یلو لائن بی آر ٹی اور جام صادق پل
کراچی موبلٹی پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کوریڈور اور اس سے منسلک سڑکوں کا انفرااسٹرکچر شامل ہے۔ اس منصوبے میں جام صادق پل اور بس ڈپوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیا تعمیر شدہ تاج حیدر پل اکتوبر 2025 میں ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا، جبکہ پل کے مجموعی منصوبے پر کام 92.7 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 73.9 فیصد مکمل ہوا ہے اور تکمیل 29 مارچ 2027 کو متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے منصوبہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ زیر التوا اقدامات کی ذمہ داری لیں، باہمی رابطہ مضبوط کریں اور مقررہ مدت کی پابندی کریں تاکہ یہ سرمایہ کاری عوام کو بہتر خدمات کی صورت میں مل سکے۔ زیر جائزہ منصوبوں میں پانی، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبے شامل ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ایک معاہدہ 5 دسمبر کو طے پائے گا، جس کے بعد 21 دسمبر سے 20 فروری 2027 تک مردم شماری اور سروے کی مشق کی جائے گی۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے کراچی سمیت صوبے بھر میں پانی کی فراہمی، ٹریفک اور بنیادی خدمات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
مزید پڑھیں: گندم کے کاشتکاروں کو ڈی اے پی مہنگی پڑنے لگی اور گل پلازہ کی عمارت گرانے کا عمل شروع۔
ذرائع: ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس، وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی کا بیان۔