جنوبی کوریا کے صدر کا ذاتی ڈیٹا لیک، ہنگامی اجلاس طلب

0

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اور ان کے وفد کے 168 ارکان کا ذاتی ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر صدارتی دفتر نے منگل 3 نومبر 2026 کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ یہ ڈیٹا صدر کے جون میں ہونے والے یورپی دورے کے دوران ساتھ جانے والے وفد سے متعلق تھا اور مبینہ طور پر کئی ماہ تک ایک عوامی طور پر قابل رسائی ویب سائٹ پر موجود رہا۔

ہنگامی اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا

صدارتی دفتر کے مطابق ہنگامی اجلاس کی صدارت چیف آف اسٹاف لم کوانگ ہیون نے کی۔ سینئر صدارتی ترجمان کانگ یو جیونگ نے تحریری بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صدارتی وفد کے ذاتی ڈیٹا کا لیک ہونا ایک سنگین معاملہ ہے جسے ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ لیک ہونے کے حالات، متاثرہ ڈیٹا کے دائرے اور کسی حقیقی نقصان کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور متعلقہ اداروں کی انتظامی ذمہ داری واضح طور پر طے کی جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صدر کے بیرونی دوروں کے سیکیورٹی نظام کا جامع جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے کہا جائے گا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تیار کریں۔

کیا ڈیٹا لیک ہوا اور کون متاثر ہوا

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی فائل کا عنوان “مسافر فہرست (جمہوریہ کوریا ۔ بیلجیئم)” تھا، جو جون میں ایک پیسوں والی سیکیورٹی سے متعلق ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی اور تقریباً پانچ ماہ تک وہاں موجود رہی۔ اس فائل میں صدر لی جے میونگ اور خاتون اول کم ہی کیونگ سمیت 168 افراد کی معلومات شامل تھیں۔

متاثرین میں اس وقت کے صدارتی پالیسی چیف کم یونگ بیوم، قومی سلامتی کے مشیر وی سنگ لاک، وزرا، صدارتی دفتر کے اہلکار، صدارتی سیکیورٹی سروس کے محافظ اور وفد کے ساتھ سفر کرنے والے صحافی بھی شامل ہیں۔ لیک ہونے والی معلومات میں افراد کے نام، عہدے، تاریخ پیدائش، پاسپورٹ نمبرز اور پاسپورٹ کے اجرا و میعاد ختم ہونے کی تاریخیں شامل تھیں۔ یہ فہرست صدر کے بیلجیئم، اٹلی اور فرانس کے دورے کے دوران صدارتی طیارے کے مسافروں سے متعلق بتائی جاتی ہے۔

تحقیقات اور پاسپورٹس کی تجدید

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس واقعے کی جامع اور گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے، جس میں دورے سے متعلق کمپیوٹرز اور ای میل اکاؤنٹس کا تکنیکی معائنہ بھی شامل ہے۔ وزارت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ صدر اور خاتون اول سمیت تمام متاثرہ افراد کے پاسپورٹس دوبارہ جاری کیے جائیں گے۔ پولیس نے بھی معاملے کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ لیک ہونے والے ڈیٹا میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شناخت اور پاسپورٹ کی تفصیلات بھی شامل ہیں، اس لیے حکومت اسے محض ذاتی ڈیٹا کی خلاف ورزی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے نظام سے جڑا وسیع تر مسئلہ سمجھ رہی ہے۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔

جنوبی کوریا سے متعلق خبروں میں حال ہی میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ بھی خبروں میں رہا، جبکہ پاکستان نے ایس سی او بینک کنسورشیم کی صدارت بھی سنبھالی ہے۔

ماخذ: یونہاپ نیوز ایجنسی، ایشیا اکنامک ڈیلی، چوسن بز اور سیئول اکنامک ڈیلی کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *