خیبر میں 7 گرلز اسکول بند، ہزاروں طالبات متاثر

0

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے باڑہ سب ڈویژن میں 7 سرکاری گرلز پرائمری اسکول بند ہو گئے ہیں۔ اساتذہ کی شدید کمی اور سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث ان اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں، جس سے علاقے کی ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ یہ خبر 2 نومبر 2026 کو سامنے آئی ہے۔

101 تدریسی آسامیاں خالی

سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (فیمیل) باڑہ کے اعداد و شمار کے مطابق، سب ڈویژن میں 310 منظور شدہ تدریسی آسامیوں میں سے صرف 209 پر اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ 101 تدریسی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ان میں 64 پرائمری اسکول ٹیچر (پی ایس ٹی) اور 37 پرائمری اسکول ہیڈ ٹیچر (پی ایس ایچ ٹی) کی آسامیاں شامل ہیں۔

غیر تدریسی عملے کی 270 منظور شدہ آسامیوں میں سے 236 پر تعیناتی ہو چکی ہے، جبکہ 34 آسامیاں ابھی خالی ہیں۔ چار اسکول اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بند ہوئے ہیں، جبکہ تین اسکول امن و امان کے خدشات کے باعث بند ہیں۔

کون سے اسکول بند ہیں؟

بند ہونے والے اداروں میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اکاخیل، برگمبر خیل، ترخوکس اور خوگہ جان شامل ہیں، جبکہ تین اسکول وادی تیراہ میں واقع ہیں۔ ان بندشوں نے مقامی بچیوں کو تعلیم تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔

سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) شکیلہ حسین نے کہا کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی اسکولوں میں صرف ایک یا دو مستقل خواتین اساتذہ ہیں، جبکہ داخلے 500 تک پہنچ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں معیاری تعلیم کا تصور مشکل ہو گیا ہے۔ خیبر میں پولیو مہم کے حوالے سے خیبر میں پولیو کا آٹھواں کیس کی خبر بھی پڑھیں۔

عارضی بھرتیاں اور مستقل حل کا مطالبہ

پیرنٹ ٹیچر کونسلز کے ذریعے 300 عارضی تدریسی آسامیوں کے لیے 282 مقامی امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ شکیلہ حسین نے کہا کہ ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی کے ذریعے مستقل بھرتیاں اب بھی ضروری ہیں، اور حکام نے مزید 333 عارضی اساتذہ کی درخواست بھی کی ہے۔

باڑہ سب ڈویژن میں اس وقت تقریباً 24,500 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ محکمہ تعلیم کو انتظامی سہولتوں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اس کا عارضی دفتر باڑہ تحصیل بلڈنگ کے ایک کمرے میں کام کر رہا ہے اور وہاں خواتین کے لیے الگ واش روم تک موجود نہیں۔ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دفتر کو میونسپل بلڈنگ میں منتقل کیا جائے۔

تعلیمی بحران کی گہرائی

یہ صورتحال خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی نظام میں گہرے ہوتے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف اساتذہ کی کمی ہے، دوسری طرف سیکیورٹی خدشات اسکولوں کو بند کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر مستقل بھرتیاں جلد نہ کی گئیں تو بند اسکولوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور طالبات کا تعلیمی نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔

صوبے میں تعلیمی اصلاحات کے دعووں کے باوجود، باڑہ جیسے علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی برقرار ہے۔ والدین اور مقامی عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں اور بند اسکولوں کو دوبارہ کھولا جائے۔ پنجاب میں امتحانات کے شیڈول کے بارے میں پنجاب ایچ ایس ایس سی سیکنڈ اینول امتحانات کی خبر بھی پڑھیں۔

ماخذ: دی ٹریبیون (اے این آئی)، ایکسپریس ٹریبیون کے حوالے سے، 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *