سعودی عرب: جنوبی علاقے کی طرف میزائل مار گرایا

0

سعودی عرب کے فضائی دفاع نے پیر 2 نومبر کو یمن کے حوثی گروپ کی طرف سے مملکت کے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا، جبکہ سول ڈیفنس نے طائف، ابہا، نجران اور خمیس مشیط میں فضائی خطرے کے پیش نظر جاری کیے گئے الرٹ واپس لے لیے۔

میزائل کہاں سے آیا اور کیا ہوا

سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے بیان کے مطابق میزائل یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغا تھا۔ فضائی دفاع نے اسے روکا اور تباہ کر دیا۔ بیان میں میزائل کے مخصوص ہدف یا کسی جانی نقصان کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ سول ڈیفنس نے بتایا کہ چار شہروں میں الرٹ احتیاطی طور پر جاری کیے گئے تھے اور خطرہ ٹلنے کے بعد انہیں ختم کر دیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں شدت آئی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں اتحاد نے ریاض اور مشرقی سعودی عرب کی طرف داغے گئے کئی بیلسٹک میزائل اور جنوبی علاقے کی طرف بھیجے گئے ڈرون روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل 31 اکتوبر کو ریاض کے علاقے میں بھی ایک ڈرون مار گرایا گیا تھا، جس کی تفصیل ہماری گزشتہ خبر میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3144

راس عیسیٰ بندرگاہ پر فضائی حملے

دوسری طرف اتوار کو یمن کی بندرگاہ راس عیسیٰ پر بھی فضائی حملے ہوئے، جو بحیرہ احمر کے کنارے واقع تیل اور ایندھن کا اہم ٹرمینل ہے اور حدیبہ شہر سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال میں ہے۔ حوثیوں کے چینل المسیرہ ٹی وی نے ان حملوں کو سعودی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ دو حملوں میں بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ صبح کی کارروائی کا مقصد حوثیوں کے ان اہم وسائل کو بے اثر کرنا تھا جو ان کی جنگی کوششوں، خاص طور پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون کی صلاحیت کو سہارا دیتے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے شہر دمام میں ایک صنعتی کمپلیکس پر حملے سے بڑی آگ لگی۔ اس دعوے کی سعودی حکام کی طرف سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے صرف ایرانی میڈیا کے دعوے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو ہی اتحاد نے جنوبی علاقے کی طرف حوثیوں کا ایک ڈرون بھی مار گرانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ابہا اور خمیس مشیط میں شہریوں کو مختصر وقت کے لیے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔

کشیدگی کا پس منظر

یمن میں جنگ 2014 کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد سعودی قیادت والا اتحاد 2015 میں یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کے لیے میدان میں آیا۔ اس طویل جنگ نے یمن میں شدید انسانی بحران پیدا کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے: سعودی اتحاد حوثی علاقوں پر فضائی حملے کر رہا ہے اور حوثی سعودی عرب کی طرف میزائل اور ڈرون داغ رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی کا اثر تیل کی ترسیل اور بحیرہ احمر کی تجارت پر بھی پڑ رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے قریب گزشتہ دنوں ایک ایل این جی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی خبر بھی سامنے آئی تھی: https://ntmnews.online/?p=3165 اس صورتحال میں سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیاں اور شہری علاقوں میں الرٹ کا جاری ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سرحد پار کشیدگی فی الحال کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

آگے کیا ہوگا

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ حملوں کا سلسلہ کب تھمے گا۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کے وسائل کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ حوثیوں نے بھی اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چار شہروں میں الرٹ ختم ہونا وقتی سکون ضرور ہے، لیکن جنوبی علاقے کی طرف میزائل کا داغا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطرہ برقرار ہے۔ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ اور علاقائی ثالثوں کی طرف سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر نظر رہے گی۔

ماخذ: عرب نیوز، دی ایکسپریس ٹریبیون، 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *