سیالکوٹ بھگدڑ: دوسری موت، ہلاکتیں 2 ہو گئیں
سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب کے دوران بھگدڑ میں زخمی ہونے والا دوسرا نوجوان بھی دم توڑ گیا ہے، جس کے بعد اس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دوسرا متاثرہ نوجوان لاہور میں زیر علاج تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔
دوسری موت کیسے ہوئی
پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 22 سالہ ریحان ارشد بھگدڑ میں شدید زخمی ہوا تھا اور اسے تشویشناک حالت میں لاہور منتقل کیا گیا تھا، جہاں اتوار یکم نومبر کو دوران علاج اس کی موت ہو گئی۔ اس سے قبل 30 سالہ محمد عقیل بھگدڑ کے دوران ہی جاں بحق ہو گیا تھا۔ موٹرا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او مبین احمد نے دوسری موت کی تصدیق کی ہے۔
بھگدڑ 31 اکتوبر کی رات سیالکوٹ کی ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں اس وقت مچی جب ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ، جو مسٹر پٹلو کے نام سے مشہور ہے، کی مہندی تقریب اور انعامی تقسیم کی تقریب میں سینکڑوں افراد جمع ہو گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق گراؤنڈ کے دروازے کھلنے اور لاؤڈ اسپیکر پر بیک وقت اندر داخل ہونے کی ہدایت کے بعد صورتحال بے قابو ہو گئی۔
زخمیوں کی تعداد اور پولیس کارروائی
پولیس کے مطابق بھگدڑ میں 18 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ریسکیو 1122 نے ابتدائی طور پر ایک موت اور 13 سے 14 زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔ زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال سیالکوٹ منتقل کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم مسٹر پٹلو تاحال مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے موٹرا تھانے میں 31 اکتوبر کو مقدمہ درج کیا تھا جس میں 8 سے 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں ٹک ٹاکر، اس کا بھائی، گراؤنڈ کا مالک اور دیگر منتظمین شامل ہیں، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم افراد بھی مقدمے میں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق انعامی تقسیم کے لیے 50 موٹر سائیکلیں اور ایک کار بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔
این او سی منسوخ ہونے کے باوجود تقریب کیوں ہوئی
ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریب کے لیے جاری کردہ اجازت نامہ (این او سی) پہلے ہی واپس لے لیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریب عشاء کی نماز کے بعد شروع ہونی تھی، لیکن ہفتے کی دوپہر تقریباً 4 بجے خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے باوجود تقریب جاری رہی، جس پر اب تحقیقات میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ اجازت منسوخ ہونے کے بعد اجتماع کیسے جاری رہا۔
وزیر دفاع کا ردعمل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر نے قیمتی انعامات کا اعلان کر کے شادی کی تقریبات میں بڑا ہجوم اکٹھا کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس طرح کے انعامی اعلانات کے ذریعے ہجوم اکٹھا کرنے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس واقعے کی ابتدائی خبر میں ایک موت اور زخمیوں کی اطلاع دی گئی تھی، اور اب دوسری موت کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ بھگدڑ میں 6 ملزمان گرفتار اور سیالکوٹ بھگدڑ کی ابتدائی تفصیلات۔
ماخذ: جیو نیوز، ہم نیوز، اردو پوائنٹ اور ڈان کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس۔