ٹرمپ: ایران کے ایک دو اہداف 10 منٹ میں نمٹا سکتے ہیں

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ایک دو باقی اہداف کو صرف 10 منٹ میں نمٹایا جا سکتا ہے، جن میں مشتبہ زیر زمین جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔ یہ بیان انہوں نے ہفتے کو فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار اے لاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسی روز واضح کیا کہ نئے حملوں کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور صدر سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو پہلے ہی بڑی حد تک ناکارہ بنا چکا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ہم نے ان کا جوہری پروگرام ختم کر دیا ہے، اب صرف ایک دو مقامات باقی ہیں جنہیں ہم 10 منٹ میں نمٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے پک ایکس ماؤنٹین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اسے بھی بہت جلد نمٹایا جا سکتا ہے۔ ایران اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کی تردید کرتا ہے۔

روبیو: کوئی فیصلہ نہیں، سفارت کاری پہلی ترجیح

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ روبیو کے مطابق اگر سفارتی حل ممکن ہو تو امریکا اس کے لیے تیار ہے، اور صدر فوجی آپشن کی بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دراصل کبھی رکے ہی نہیں، اور قطر کی ثالثی میں رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس فوجی مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن صدر نے ابھی اس راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ روبیو کے مطابق اگر صدر فوجی کارروائی چاہتے تو وہ ہفتوں یا مہینوں پہلے کر چکے ہوتے۔

خامنہ ای کی وارننگ اور وسط مدتی انتخابات کا پس منظر

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو امریکا اور اسرائیل کو نئی جنگ شروع کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی درجے کی دھمکی پر فوری اور مؤثر جواب دیا جائے، اور ایران کی ہدف فہرست کو اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اس وارننگ کی تفصیل ہماری اس خبر میں موجود ہے: ایران: حملے پر بلا جغرافیائی حد جواب کی دھمکی (https://ntmnews.online/?p=3062)۔

ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن نے خلیجی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ انتخابات کے اگلے روز 4 نومبر سے نئے حملوں کا امکان ہو سکتا ہے، تاہم یہ اطلاعات ابھی رپورٹوں کی حد تک ہیں اور امریکی انتظامیہ نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پس منظر فروری میں شروع ہونے والی جنگ ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اس تنازع کے سفارتی خاکے کی تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے: ایران امریکا ڈرافٹ فریم ورک: آبنائے ہرمز پر 7 روزہ پیشکش (https://ntmnews.online/?p=2993)۔

ٹرمپ نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ بات چیت ٹھیک چل رہی ہے، لیکن ایران پر اعتبار کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ معاہدہ کر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔

ماخذ: اے ایف پی کی رپورٹوں پر مبنی نیو انڈین ایکسپریس، ای ٹی وی بھارت، فنانشل ایکسپریس اور کوریا ہیرالڈ کی کوریج، یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *