سیمنٹ 1604 روپے فی بوری، اکتوبر میں فروخت میں کمی
پاکستان میں سیمنٹ کی قیمت اکتوبر 2026 میں اوسطاً 1604 روپے فی بوری تک پہنچ گئی ہے، جو ایک سال پہلے کی 1404 روپے فی بوری کے مقابلے میں تقریباً 200 روپے زیادہ ہے۔ اسی دوران ملک میں سیمنٹ کی مقامی فروخت میں 1 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے تعمیراتی شعبے اور عام صارفین دونوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اکتوبر میں فروخت کا تخمینہ کیا ہے؟
انڈسٹری کے تخمینوں کے مطابق اکتوبر میں پاکستان میں سیمنٹ کی مقامی ترسیل (ڈسپیچز) 3.95 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 1 فیصد کم ہے۔ یہ تخمینہ مہینے کے پہلے 18 دنوں کے اصل اعداد پر مبنی ہے، جب مقامی فروخت 2.1 ملین ٹن رہی۔ پہلے 25 دنوں کے چینل چیکس کے مطابق فروخت 3.05 ملین ٹن تک پہنچی تھی۔
برآمدات سے بھی صنعت کو زیادہ سہارا نہیں ملا۔ بیرون ملک ترسیل میں سالانہ 3 فیصد اور ماہانہ 7 فیصد کمی کے ساتھ 0.77 ملین ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ مقامی اور برآمدی فروخت ملا کر اکتوبر کی کل ترسیل تقریباً 4.73 ملین ٹن بنتی ہے، جو گزشتہ سال سے 1 فیصد کم لیکن ستمبر سے 2 فیصد زیادہ ہے۔
قیمت کیوں بڑھی؟
رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے اعداد کے مطابق اکتوبر میں ایک بوری کی اوسط قیمت 1604 روپے رہی، جبکہ ستمبر کے مقابلے میں قیمتوں میں 2 سے 4 فیصد اضافہ ہوا۔
ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر تعمیراتی لاگت پر پڑتا ہے۔ حکومت نے 29 اکتوبر سے پٹرول 1.85 روپے اور ڈیزل 1.75 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول 377.91 روپے اور ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2484
ایک ٹھیکیدار کے لیے یہ اضافہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ ایک ہزار بوریاں خریدنے پر اسے ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 2 لاکھ روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے چھوٹے تعمیراتی منصوبوں اور گھر بنانے والوں کا بجٹ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
شمالی اور جنوبی علاقوں میں مختلف صورتحال
ملک کے شمالی علاقے، جو سب سے بڑی مارکیٹ ہیں، میں اکتوبر میں مقامی ترسیل میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1 فیصد کمی کا تخمینہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہینے کے پہلے ہفتے میں خیبرپختونخوا میں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی قیمتوں کے باعث طلب نرم رہی۔ شمالی علاقے میں روزانہ فروخت پہلے دو ہفتوں میں 1 لاکھ سے 1 لاکھ 6 ہزار ٹن کے درمیان رہی، جبکہ تیسرے ہفتے میں یہ بڑھ کر 1 لاکھ 17 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ مجموعی طور پر شمالی ترسیل ستمبر کے مقابلے میں 6 فیصد آگے رہنے کا امکان ہے۔
جنوبی علاقے میں صورتحال مختلف رہی۔ وہاں روزانہ فروخت پہلے 18 دنوں میں 18 ہزار سے 20 ہزار ٹن کے درمیان رہی، جو شمالی علاقے کی شرح کا تقریباً پانچواں حصہ ہے، اور مہینہ ستمبر سے 5 فیصد نیچے بند ہونے کا امکان ہے۔
فیکٹریاں آدھی سے کچھ زیادہ صلاحیت پر چل رہی ہیں
اکتوبر میں سیمنٹ کی فیکٹریاں اپنی مجموعی صلاحیت کے تقریباً 56 فیصد پر چلیں گی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ شرح 57 فیصد اور ستمبر میں 54 فیصد تھی، یعنی صنعت کی دو پانچویں سے زیادہ صلاحیت استعمال نہیں ہو رہی۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ طلب میں کمی کے باعث پیداواری یونٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔
طویل مدتی تصویر نسبتاً بہتر
چار ماہ کی طویل مدت میں تصویر نسبتاً بہتر نظر آتی ہے۔ جولائی سے اکتوبر کے دوران کل ترسیل میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 17.87 ملین ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ مقامی ترسیل میں 5 فیصد اضافے کے ساتھ 14.80 ملین ٹن کا امکان ہے۔ تجزیہ کار مالی سال 2026-27 میں مقامی سیمنٹ کی طلب میں 8 فیصد اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں، لیکن اس ہدف تک پہنچنے کے لیے باقی آٹھ مہینوں میں فروخت کو گزشتہ سال سے تقریباً 9.5 فیصد آگے چلنا ہوگا۔
کاروبار پر مجموعی دباؤ
سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کاروباری لاگت پہلے ہی بلند ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 12 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جس پر کاروباری حلقوں نے منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2528
نومبر سیمنٹ کی صنعت کے لیے پہلا اصل امتحان ہوگا، کیونکہ قیمتیں بلند ہیں اور 44 فیصد صلاحیت اب بھی خالی پڑی ہے۔ اگر طلب بحال نہ ہوئی تو تعمیراتی شعبے میں سست روی مزید گہری ہو سکتی ہے، اور اگر قیمتیں نرم ہوئیں تو گھر بنانے والوں اور چھوٹے ٹھیکیداروں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
ذرائع: فوکس پاکستان کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے حساس قیمتوں کے اشاریے کے حوالے سے؛ قیمتوں اور ترسیل کے اعداد تخمینوں پر مبنی ہیں۔