یوم سیاہ: گورنر بلوچستان کا عالمی برادری سے مطالبہ

0

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یوم سیاہ کے موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ گورنر نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

یوم سیاہ کیوں منایا جاتا ہے؟

27 اکتوبر کو پاکستان بھر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کرنا ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس دن کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خلاف آواز بلند کرنا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کرنا ہے۔ ملک بھر میں اس موقع پر اجتماعات، ریلیاں اور عوامی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جن میں کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں یوم سیاہ، 10 بجے خاموشی اختیار

عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا؟

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہر اہم بین الاقوامی فورم بشمول اقوام متحدہ پر کشمیر کا مسئلہ مسلسل اجاگر کیا ہے اور اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ حل کی وکالت جاری رکھی ہے۔ گورنر نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا اور ان کے جائز حقوق کی حمایت میں مؤثر عالمی رائے عامہ بنانا ضروری ہے۔

مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا پاکستان

گورنر بلوچستان نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان دنیا بھر کی مظلوم اقوام اور پسماندہ برادریوں پر ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہے، جن میں کشمیر اور فلسطین کے عوام بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس تنازعے کا پرامن اور منصفانہ حل خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے لیے سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھنا ہوگی۔

مزید پڑھیں: Shehbaz: Kashmir, Palestine Cases Violate UN Charter

بلوچستان میں یوم سیاہ کی سرگرمیاں

بلوچستان حکومت نے 27 اکتوبر کو صوبے بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان پہلے ہی کر رکھا تھا، جس کے تحت صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ گورنر کے پیغام کے ساتھ صوبے میں یکجہتی کی سرگرمیاں جاری ہیں، جن کا مقصد کشمیری عوام کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور مسئلہ کشمیر کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہے۔

ماخذ: اے پی پی / اردو پوائنٹ، 27 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *