حوثی حملوں کے بعد برطانیہ کے ٹائفین لڑاکا طیارے سعودی عرب کی فضا میں گشت کریں گے — دفاعی مشن کا اعلان
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائیہ (آر اے ایف) کے ٹائفین لڑاکا طیارے سعودی عرب کے شہروں اور اہم تنصیبات کو حوثی ڈرون اور میزائل حملوں سے بچانے کے لیے سعودی فضائی حدود میں دفاعی مشن انجام دیں گے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ طیارے صرف دفاعی کردار ادا کریں گے اور یمن کے اندر حوثیوں کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔
برطانوی پیکیج میں کیا ہے
وزارتِ دفاع کے اعلان کے مطابق ٹائفین طیاروں کے ساتھ ایک اٹلس اے 400 ایم ٹرانسپورٹ طیارہ بھی سعودی عرب بھیجا جائے گا جو دفاعی ساز و سامان کی نقل و حمل میں مدد کرے گا، جبکہ برطانوی فوجی مشیران سعودی اسٹاف افسران کے ساتھ کام کریں گے۔ پہلے سے جاری فضائی ایندھن بھرنے کی مدد (آر اے ایف وائیجر طیارے سے) میں بھی 90 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔
برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کو “بے حد قابلِ مذمت” قرار دیا اور خاص طور پر ریاض ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے مسلسل حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کی سنگین کوشش ہیں۔
حملے کیوں تیز ہوئے
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے حالیہ ہفتوں میں تیز ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، جن میں 13 سے 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں — ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ سعودی عرب کی ارامکو تنصیبات اور توانائی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور سعودی عرب کا اہم “ڈیوس ان دی ڈیزرٹ” سرمایہ کاری فورم 2027 تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
یہ اقدام ستمبر کے اس پیکیج کی توسیع ہے، جس میں برطانیہ نے ایندھن بھرنے والا طیارہ بھیجا تھا مگر لڑاکا طیارے شامل نہیں تھے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پہلے کہا تھا کہ برطانیہ سعودی درخواست پر غور کرنے کے لیے تیار ہے — اب سعودی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
Sources: UK Ministry of Defence (20 October 2026); reporting by The Guardian, Al Jazeera, Reuters, AP via vocemundi, sofx, thediplomaticinsight (20-21 October 2026).