گوادر میں دہشتگرد حملہ ناکام — 3 ہلاک، 7 گھیر لیے

0

گوادر — پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے 22 اکتوبر کی شام گوادر میں دہشتگردوں کی ایک بڑی حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے ایک خالی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جس پر فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ تین مزید کو جائے وقوعہ پر ہی گھیرے میں لے لیا گیا۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر علاقے میں گھیرا تنگ کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے مزاحمت پر ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں تین حملہ آور موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ بچ جانے والے تین دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ جائے وقوعہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گوادر ہائی وے کے ہوٹل کے قریب دوسرا آپریشن

اس کارروائی کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز نے گوادر ہائی وے کے قریب واقع ایک ہوٹل کے اندر چھپے دہشتگردوں کے خلاف الگ آپریشن بھی شروع کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وہاں چار دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ دونوں مقامات کی صورتحال کو ملا کر دیکھا جائے تو تین دہشتگرد ہلاک اور سات گھیرے میں آئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) خود زمینی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور علاقے میں سینی ٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ ممکنہ چھپنے کی جگہوں کو کلیئر کیا جا سکے اور کسی دہشتگرد کی فرار ممکن نہ ہو۔

محسن نقوی کا خراج تحسین، تین مقامات پر رپورٹس

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فورسز کی بروقت کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد خالی تعمیراتی کیمپ پر حملہ کرنا چاہتے تھے، مگر بہادر فورسز نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

دریں اثنا بی بی سی اردو نے تین اعلیٰ سرکاری حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گوادر ضلع میں تین مختلف مقامات — گوادر شہر کے قریب سرکاری تعمیراتی کمپنی کا کیمپ، سونٹسر، اور ایران سے ملنے والی گبد-ریمدان سرحدی کراسنگ — پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر پر عائد کی گئی ہے، تاہم اس وابستگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ متعدد ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشنز کے دوران حالات تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے ہلاکتوں اور گھیرے میں لیے گئے افراد کی تعداد میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

پاکستان میں دہشتگردی کی صورتحال

پاکستان میں 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک میں پچھلے 12 سال کے دوران سب سے زیادہ ماہانہ دہشتگرد حملے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اسلام آباد افغان سرزمین کو دہشتگرد تنظیموں کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کابل سے مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے۔

بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر مزید پڑھیں: شوروپارود انخلا — 5 ہزار خاندانوں کو 30 اکتوبر کی ڈیڈ لائن اور کوئٹہ کی پہلی ڈیجیٹل اسٹیل مل نے پیداوار شروع کر دی۔

ذرائع: The News، Terror Monitor، BBC اردو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *