کراچی میں ایم پاکس سے شیرخوار بچہ جاں بحق، سندھ میں اموات 12
کراچی میں ایم پاکس سے متاثرہ 52 روزہ شیرخوار بچہ جاں بحق ہو گیا ہے۔ ڈان کے مطابق بچہ سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں زیر علاج تھا اور ہفتہ کی صبح انتقال کر گیا۔ یہ کراچی میں کسی شیرخوار کی ایم پاکس سے پہلی موت ہے۔ اس موت کے بعد سندھ میں رواں سال ایم پاکس سے اموات کی تعداد 12 ہو گئی ہے جبکہ مجموعی کیسز 98 تک پہنچ گئے ہیں۔
بچہ کہاں متاثر ہوا
ذرائع کے مطابق بچے کا ملیر کے ایک اسپتال میں ختنہ کیا گیا تھا اور اس دوران مبینہ طور پر انفیکشن منتقل ہوا۔ بچے میں علامات ظاہر ہونے کے بعد اسے نجی اسپتال سے سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کم از کم 10 روز زیر علاج رہا۔ عرب نیوز کے مطابق اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے بچے کی موت کی وجہ ایم پاکس بتائی ہے۔
اسپتال سیل اور تحقیقات
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملیر 15 میں واقع ابن حسن اسپتال کو سیل کر دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ضلعی صحت افسر کی رپورٹ میں تصدیق ہوئی تھی کہ شیرخوار نے اسی اسپتال میں ختنے کے دوران آلودہ آلات سے انفیکشن حاصل کیا۔ معائنے میں اسپتال کو غیر قانونی طور پر چلتا ہوا پایا گیا جہاں غیر تربیت یافتہ عملہ کام کر رہا تھا اور انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی تھے۔
سندھ میں صورتحال
ڈان کے مطابق اس وقت سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال میں کم از کم سات مریض زیر علاج ہیں جن میں ایک اور شیرخوار بھی شامل ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ شیرخوار بھی اسی سیل شدہ اسپتال میں ختنے کے بعد متاثر ہوا تھا۔ متاثرین میں اسپتال کا ایک کارکن بھی شامل ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے اسپتال سے ہی انفیکشن حاصل کیا۔ اس سے قبل اپریل میں خیرپور میں ایم پاکس کی وبا پھیلی تھی جس میں کم از کم سات شیرخوار جاں بحق ہوئے تھے جبکہ سکھر میں بھی دو شیرخواروں کی اموات ہوئی تھیں۔
ایم پاکس کیسے پھیلتا ہے، احتیاط کیا ہے
ماہرین کے مطابق ایم پاکس قریبی رابطے، آلودہ بستر، تولیے، طبی آلات یا سطحوں سے پھیل سکتا ہے۔ انڈس اسپتال کی متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر ثمرین سرفراز کے مطابق زیادہ تر مریض 2 سے 4 ہفتوں میں بغیر علاج کے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں جبکہ مریض اس وقت تک متعدی رہتا ہے جب تک اس کے دانے مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو جائیں۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہر پروفیسر فیصل محمود کے مطابق چکن پاکس کے مقابلے میں ایم پاکس ہوا کے ذریعے کہیں کم پھیلتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اسپتالوں اور کلینکوں میں انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے، خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے طریقہ کار کے دوران جراثیم سے پاک آلات کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں میں بخار یا دانوں کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور کسی غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی طبی مرکز سے علاج نہ کرائیں۔
مزید پڑھیں: پولیو 2026 — پاکستان میں صرف 6 کیس، افغانستان میں 42 اور پولیو مہم 2 نومبر سے — 2 کروڑ 39 لاکھ بچے۔
ماخذ: ڈان، عرب نیوز — 25 اکتوبر 2026۔