پشاور اسکول چھت سانحہ — پشاور ہائیکورٹ کا کے پی حکومت اور افسران کو نوٹس، جوابات طلب
پشاور ہائیکورٹ نے 15 اکتوبر کو ڈیر کالونی کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 طلبہ اور ایک خاتون استانی کی ہلاکت کے واقعے پر صوبائی حکومت، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے افسران کو نوٹس جاری کر کے جوابات طلب کر لیے ہیں۔
عدالت نے کن افسران کو نوٹس جاری کیے؟
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بدھ کو درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، صوبائی حکومت، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی، سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز اور سیکرٹری فنانس، لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ اتھارٹی کو نوٹس جاری کیے۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان ایڈووکیٹ اور فواد جان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزاروں کا موقف
درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ڈیر کالونی کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 طلبہ اور ایک خاتون استانی جاں بحق ہوئیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ واقعہ متعلقہ حکام کی غفلت کا نتیجہ ہے اور صوبے بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں، تعلیمی معیار اور انتظامی امور کی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
وکلاء نے نشاندہی کی کہ متعدد غیر رجسٹرڈ اسکول رہائشی علاقوں میں بغیر کسی مؤثر کارروائی کے چل رہے ہیں جبکہ کچھ نجی اسکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ درخواست گزاروں نے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ اہلیت جانچنے کا مؤثر طریقہ کار بھی مانگا اور استدعا کی کہ اسکول سانحے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے اور غفلت کے مرتکب حکام و اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام کو جوابات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
سانحے کا پس منظر
15 اکتوبر کی صبح ڈیر کالونی کے الخیر ایجوکیشن سینٹر نامی نجی اسکول کی بالائی منزل کی چھت گر گئی تھی جس سے نچلی منزل کی چھتیں بھی منہدم ہو گئیں۔ اس وقت تین کلاس رومز میں تقریباً 110 طلبہ موجود تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔
پولیس کے مطابق عمارت کی ساخت کمزور تھی اور اضافی تعمیرات سے چھت پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔ واقعے کے بعد اسکول کے مالک خان محمد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ آغا میر جانی شاہ تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 (قتل بے سبب) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے۔
(ذرائع: دی نیوز اور میڈیا رپورٹس)