پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ: عامر جمال واپس، 3 نئے کھلاڑی شامل

0

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی ہوم سیریز کے لیے 16 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ تیز گیند باز آل راؤنڈر عامر جمال کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ تین نوجوان کھلاڑیوں کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ پیر 9 نومبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔

بیٹر محمد طیب عارف اور فاسٹ بولرز علی شبیر اور ثاقب خان نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی اور پی سی بی پیٹرنز الیون کے سری لنکا کے خلاف تین روزہ پریکٹس میچ میں متاثر کن کھیل کی بنیاد پر پہلی بار قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنائی ہے۔ ان چاروں کھلاڑیوں کی شمولیت سے اسکواڈ کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔

عامر جمال کی واپسی

تیس سالہ عامر جمال نے پاکستان کی جانب سے اب تک نو ٹیسٹ، تین ون ڈے اور چھ ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں۔ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں زبردست فارم کے باعث ٹیسٹ ٹیم میں واپسی حاصل کی ہے۔ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون کے فائنل میں انہوں نے 32 رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کیں اور 55 رنز بھی بنائے جس پر انہیں فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ قائد اعظم ٹرافی گولڈ کے ابتدائی راؤنڈ میں بھی انہوں نے تین وکٹیں لیں اور 74 اور 23 رنز کی اننگز کھیلیں۔

عامر جمال ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں پاکستان کے حالیہ دورہ انگلینڈ کے دوران وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اب ڈومیسٹک کارکردگی کی بنیاد پر انہیں دوبارہ موقع دیا گیا ہے۔

تین نئے چہرے کون ہیں

انیس سالہ محمد طیب عارف اس سیزن ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے اس بیٹر نے اپنے پہلے ہی سیزن میں سات میچوں میں 66.09 کی اوسط سے 727 رنز بنائے جن میں تین سنچریاں شامل ہیں۔

انیس سالہ فاسٹ بولر علی شبیر نے آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف پریکٹس میچ میں انہوں نے تین وکٹیں لیں اور بولنگ کوچ شون ٹیٹ ان کی رفتار اور ردھم سے متاثر ہوئے۔ ثاقب خان کراچی بلیوز کی قائد اعظم ٹرافی 2025-26 کی فاتح ٹیم کے نمایاں کھلاڑی رہے، انہوں نے نو میچوں میں 20.60 کی اوسط سے 47 وکٹیں حاصل کیں جن میں ایک اننگز میں 34 رنز دے کر سات وکٹیں بہترین کارکردگی رہی۔

دو کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

پی سی بی نے اصل 14 رکنی اسکواڈ سے سست بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان اور اوپنر عبداللہ فضل کو بھی خارج کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ سلیکٹرز نے 24 اکتوبر کو 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وارم اپ میچ کے بعد صرف دو مزید کھلاڑی شامل کیے جائیں گے، تاہم اب چار کھلاڑی شامل اور دو خارج کیے گئے ہیں۔

محمد عباس کی نظریں ہوم فائفر پر

تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس اس سیریز میں پاکستان کے پیس اٹیک کی قیادت کریں گے۔ 36 سالہ عباس نے 33 ٹیسٹ میچوں میں 22.67 کی اوسط سے 131 وکٹیں حاصل کی ہیں اور وہ ہوم گراؤنڈ پر اپنی پہلی پانچ وکٹوں کی کارکردگی کے منتظر ہیں جو اب تک ان سے اوجھل رہی ہے۔ عباس نے کہا کہ وہ فارم میں ہیں اور پاکستان میں بھی اپنا نام بورڈ پر لکھوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا بڑا موقع ہے۔

سیریز کا شیڈول اور اہمیت

پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دونوں میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں جس میں پاکستان اس وقت نویں اور آخری نمبر پر ہے جبکہ سری لنکا ساتویں نمبر پر ہے۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف اب تک 59 ٹیسٹ میچوں میں سے 23 جیتے، 17 ہارے اور 19 ڈرا ہوئے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ہوم سیریز پاکستان نے 2019-20 میں ایک صفر سے جیتی تھی۔

سری لنکا کی ٹیم کی قیادت کوسل مینڈس کر رہے ہیں اور ان کے 15 رکنی اسکواڈ میں دنیش چندیمل، دھننجایا ڈی سلوا اور پراباتھ جے سوریا جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کا اصل اعلان اور افغانستان زمبابوے ٹیسٹ کی تازہ صورتحال

ماخذ: ڈان، جیو نیوز — 8 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *