وسیم عباس کیس — مرکزی ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک؛ یتیم خانے کی رجسٹریشن بھی مسترد
ملتان: 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ سی سی ڈی حکام کے مطابق واقعہ 21 اکتوبر 2026 کو بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب پیش آیا۔
سی سی ڈی حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم توقیر نذیر ملتان میں پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کی۔ حکام کے مطابق بہاولپور میں دو موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حکام کے دعوے کے مطابق ملزم توقیر نذیر اپنے ساتھی کی مبینہ فائرنگ سے گولیاں لگنے سے ہلاک ہوا، جبکہ دوسرا ملزم پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔ سی سی ڈی نے فرار ہونے والے ملزم کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ملزم کے حراست سے فرار ہونے کی صورتحال کے بارے میں حکام نے تاحال عوامی طور پر وضاحت نہیں کی ہے۔
کیس کا پس منظر
وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا جو ادارہ خودی نامی یتیم خانے میں رہتا تھا۔ پولیس کے مطابق وسیم کو بجلی کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ 17 اکتوبر کو کام سے متعلق تکرار کے بعد وسیم نے کام چھوڑنے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر ملزم نے اسے کار سے ٹکر مار کر ہلاک کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ ملتان کے رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر لڑکے کو بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد گاڑی اسے ٹکر مارتی ہے۔ وسیم سر پر شدید چوٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ پولیس نے توقیر نذیر کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ایک اور ملزم امجد علی کا نام بھی مقدمے میں شامل کیا گیا۔
یتیم خانے کی رجسٹریشن مسترد
اسی دوران پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے ادارہ خودی کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ بیورو نے 20 اکتوبر کو ہونے والے رجسٹریشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ادارے میں بچوں کی حفاظت اور نگرانی کے انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام وسیم عباس کی ہلاکت سے متعلق حقائق کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کی ہے کہ وسیم کو کام پر بھیجنے کی کیا صورتحال تھی۔
ملک گیر غم و غصہ
اس دل خراش واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ پاکستانی اداکاروں سمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر اس واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اداکارہ یمنیٰ زیدی، مشی خان، احسن خان اور دیگر فنکاروں نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے ایک کمزور بچے کی موت پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایک اور واقعے میں وکلاء نے عدالت کے باہر گاڑی کے ڈرائیور پر حملہ بھی کیا تھا، جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
ذرائع: اے آر وائی نیوز (21 اکتوبر 2026)، سوشل ڈائری پاکستان (21 اکتوبر 2026)