میانوالی میں 4 سال سے مطلوب اشتہاری ملزم گرفتار
میانوالی کی تھانہ کالاباغ پولیس نے قتل کے مقدمے میں 4 سال سے مطلوب اشتہاری ملزم عصمت اللہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو اشتہاری مجرموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیا گیا۔
میانوالی پولیس کے سرکاری بیان کے مطابق ملزم عصمت اللہ قتل کے ایک مقدمے میں عدالت کو مطلوب تھا اور تقریباً چار سال سے قانون سے فرار تھا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سرکاری تصاویر میں سب انسپکٹر جی۔ حُر خان ہتھکڑی لگے ملزم (چہرہ دھندلا) کے ہمراہ نظر آئے۔
پولیس حکام کے مطابق ضلع بھر میں اشتہاری مجرموں کی گرفتاری کے لیے خصوصی مہم جاری ہے اور ملزموں کی معلومات رکھنے والوں کو پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
ہرنولی میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد
ایک اور کارروائی میں تھانہ ہرنولی پولیس نے ملزم احمد شیر ممتاز سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی “اسلحہ فری پنجاب” مہم کے تحت کی گئی۔ میانوالی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کی اطلاع 15 پر دیں تاکہ ضلع کو اسلحہ سے پاک کیا جا سکے۔
اشتہاری مجرم کیا ہوتے ہیں؟
اشتہاری مجرم وہ ملزمان ہوتے ہیں جو عدالت میں پیش نہ ہوں اور قانون سے فرار رہیں — عدالت انہیں اشتہاری قرار دے دیتی ہے اور پولیس کو ان کی گرفتاری کے خصوصی احکامات جاری ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق عصمت اللہ چار سال تک عدالت سے مفرور رہا، جس کے بعد اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
میانوالی میں پولیس کی حالیہ کارروائیاں
میانوالی پولیس حالیہ ہفتوں میں متعدد بڑی کارروائیاں کر چکی ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ میانوالی میں مبینہ پولیس مقابلے میں 10 خوارج ہلاک ہوئے تھے، جس پر وزیراعظم نے پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ اسی طرح تھانہ ہرنولی پولیس نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی “اسلحہ فری پنجاب” مہم کے تحت غیر قانونی اسلحہ برآمد کر کے ایک ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
مزید پڑھیں: میانوالی میں 13 سالہ لڑکی کے قتل میں ملزم گرفتار اور میانوالی میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی — 10 خوارج ہلاک۔
(ماخذ: سرکاری میانوالی پولیس فیس بک پیج — 22 اکتوبر 2026؛ تحریر مکمل طور پر پولیس کے بیان پر مبنی ہے، کوئی آزاد دوسرا ذریعہ دستیاب نہیں)