عمران خان کی بہنوں کا کیس — ہائیکورٹ کی افسروں کو طلبی
عمران خان کی بہنوں کا کیس — ہائیکورٹ کی افسروں کو طلبی
لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تین بہنوں کی جاری نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس ابھر گل خان نے جمعرات 22 اکتوبر کی سماعت میں دونوں افسران کو رپورٹ کے ساتھ طلب کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بہنوں کے 30 روزہ نظربندی کے احکامات کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہیں کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔
ہائیکورٹ میں کیا ہوا
درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان نے دائر کی ہے، جس میں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ نظربندی کے احکامات کی میعاد 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکی تھی، لیکن تینوں خواتین تاحال کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا، کیونکہ نظربندی کے احکامات اسی عہدیدار نے جاری کیے تھے۔ وکیل نے جواب دیا کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر کا جاری کردہ نوٹیفکیشن ختم ہو چکا ہے، اس لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔ عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے عدالت سے ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کرنے کی درخواست کی، جس پر جسٹس ابھر گل خان نے ریمارکس دیے کہ کسی ایسے عہدیدار کو طلب نہیں کیا جا سکتا جو مقدمے میں فریق ہی نہ ہو۔ سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
نظربندی کا پس منظر
تینوں بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر اور عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب منصوبہ بند احتجاجی مارچ سے پہلے کیا گیا تھا، جو بعد میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔
درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ احتیاطی نظربندی عام فوجداری قانون کی جگہ نہیں لے سکتی اور تاحال حراست آئین کے آرٹیکل 10 اور ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو زیر حراست بہنوں کو پیش کرنے اور انہیں رہا کرنے کی ہدایت دی جائے، اور نظربندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے۔ یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ تمام مواقف درخواست گزار کے دعوے ہیں؛ حکومت پنجاب کا مؤقف اس معاملے پر ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
پی ٹی آئی کی متوازی کوشش
عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے بھی عمران خان کی بہنوں کی رہائی کے لیے حکومت سے رابطے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکام سے خان کی تینوں بہنوں کی رہائی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے خاندانی ملاقات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ متعلقہ پیش رفت ہماری اس رپورٹ میں پڑھیں: مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں — عامر ڈوگر کا اہم اعلان
مزید پس منظر کے لیے پڑھیں: گنداپور مذاکرات کے لیے نامزد — پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ
ذرائع: جیو نیوز، ڈان، دنیا نیوز