زرداری سے جرمن صدر کی ملاقات — مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں
برلن میں صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں دونوں صدور نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ صدر زرداری کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ 23 سال بعد ہونے والا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اہم سنگ میل ہے۔ جرمن صدر نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی تعریف کی اور امریکہ-ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کا اعتراف کیا۔
افغانستان پر واضح موقف
دونوں صدور نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، تاہم وہ دہشتگردوں کو افغان سرزمین سے پاکستانی شہریوں پر حملے کرنے اور ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔
جرمن صدر نے چار دہائیوں سے زائد عرصے میں لاکھوں افغانوں کو انسانی امداد فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، اور جرمنی واپسی کے لیے 500 افغانوں کی تصدیق میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
مکہ دفاعی معاہدے پر جرمن دلچسپی
جرمن صدر نے مکہ دفاعی معاہدے میں گہری دلچسپی ظاہر کی، جس پر صدر زرداری نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے اور علاقائی تنازعات کا متبادل فراہم کرنے کے لیے ہے، کسی خاص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہوا ہے، اور حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب نے اس کی توثیق مکمل کر لی ہے۔
تجارت اور دفاع میں تعاون
ملاقات میں تجارتی اور دفاعی تعلقات بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ صدر زرداری نے جرمن صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جسے انہوں نے مناسب وقت پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ جرمن وزارت دفاع میں صدر زرداری کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
اس سے قبل وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے جن میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر صوبائی وزراء بھی شریک تھے۔
متعلقہ خبریں: مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق یہ رپورٹ اور استنبول میں R4 اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کے لیے یہ خبر بھی دیکھیں۔
ذرائع: ڈان، دی نیوز، دی نیشن۔