اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 53، اکثریت سے دور

0

اسرائیل کے عام انتخابات کی گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید واضح ہو رہی ہے، مگر حکومت سازی اب بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ تقریباً 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، جب کہ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت والا اپوزیشن بلاک 48 نشستوں پر ہے۔ دونوں ہی 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے دور ہیں۔

تازہ اعداد و شمار

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ جزوی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں — جوائنٹ لسٹ اور رعام — کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ تین جماعتیں 3.25 فیصد کی انتخابی حد سے نیچے ہیں: ریزروسٹس 2.7 فیصد، پیپل آف اسرائیل 1.6 فیصد اور چریڈی پبلک 0.2 فیصد پر ہیں۔ یہ اعداد و شمار اب بھی عارضی ہیں، کیونکہ تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ 80 ہزار “ڈبل لفافہ” ووٹ — جو زیادہ تر فوجیوں، قیدیوں، سفارتکاروں اور اپنے مقررہ پولنگ اسٹیشن پر ووٹ نہ ڈال سکنے والوں کے ہیں — الگ سے گنے جائیں گے۔ ہر کنیسٹ نشست تقریباً 40 ہزار ووٹوں کے برابر سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ ووٹ تقریباً 12 نشستوں کے برابر ہو سکتے ہیں اور حتمی منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔

حکومت سازی کا معمہ

نیتن یاہو بلاک کو اکثریت کے لیے مزید 8 نشستیں درکار ہیں، جب کہ اپوزیشن بلاک کو 13 نشستیں کم ہیں۔ اسی لیے عرب جماعتوں کی 19 نشستیں فیصلہ کن بن گئی ہیں۔ اسرائیل کی ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے آئزن کوٹ کے بلاک سے اپیل کی ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں اور نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹائیں، تاہم اپوزیشن کے اندر اس تعاون پر اختلافات موجود ہیں۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے اتحادی مذاکرات میں “کھلے ذہن” کی اپیل کی ہے۔ حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر کو شائع ہونے کی توقع ہے، جب کہ مکمل گنتی کل دوپہر تک جاری ہونے کا اندازہ ہے۔

پس منظر

اسرائیل میں ووٹرز نے کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ نیتن یاہو، جو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے رہنما ہیں، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگوں کے بعد اپنے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن امتحان کا سامنا کر رہے ہیں۔ گنتی کے ابتدائی مرحلے میں ان کے بلاک کو 54 نشستیں ملنے کا اندازہ تھا، جو اب 53 ہو گیا ہے — یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ نتائج اب بھی بدل رہے ہیں اور حتمی اعلان سے پہلے کسی بلاک کی فتح کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات میں گنتی کے پہلے مرحلے میں نیتن یاہو بلاک 54 نشستوں کی خبر https://ntmnews.online/?p=2431 اور ایگزٹ پول میں کسی بلاک کو اکثریت نہ ملنے کی خبر https://ntmnews.online/?p=2377 پر ملاحظہ کریں۔

ماخذ: ٹائمز آف اسرائیل لائیو بلاگ، وائی او این، دی ہندو، 28 اکتوبر 2026۔ نتائج عارضی ہیں، حتمی اعلان 4 نومبر کو متوقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *