ارامکو کا دھہران ہیڈکوارٹر خالی — حوثی جنگ میں پہلی انخلا
ارامکو کا دھہران ہیڈکوارٹر خالی — حوثی جنگ میں پہلی انخلا
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ارامکو نے اپنے ملازمین کو دھہران میں واقع ہیڈکوارٹر کی عمارت فوری طور پر خالی کرنے اور گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ارامکو ہیڈکوارٹر کی یہ پہلی انخلا ہے، جبکہ بلوم برگ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ الارم بجنے کے بعد عمارت خالی کرائی گئی۔ ارامکو نے اس بارے میں باضابطہ تبصرہ نہیں کیا اور انخلا کی درست وجہ بھی واضح نہیں ہو سکی۔
رائٹرز کا انکشاف — چھ ذرائع کی تصدیق
رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف چھ افراد نے جمعرات 22 اکتوبر کو تصدیق کی کہ ارامکو نے ہیڈکوارٹر خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملازمین کو عمارت چھوڑ کر ریموٹ کام پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔ رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ رواں ماہ کے شروع میں یمن کے حوثیوں نے ارامکو ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا، جس سے عمارت کی کئی منزلوں میں آگ لگ گئی اور بڑا نقصان ہوا تھا۔ یہ دعویٰ براہ راست علم رکھنے والے تین ذرائع کے حوالے سے کیا گیا۔
دمام ایئرپورٹ حملے کے ایک دن بعد کا فیصلہ
یہ انخلا دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام ہونے والے حملے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں سعودی ہوا بازی حکام کے مطابق 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے تھے۔ دمام کا یہ ایئرپورٹ دھہران سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، اسی لیے اس علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ سعودی زیر قیادت اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں پر حوثی ڈرونز کو روک کر تباہ کیا، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر، ایئرپورٹس اور ارامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا — اتحاد نے وزارت دفاع پر حملے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ مزید پڑھیں: دمام ایئرپورٹ پر حملے کی مکمل تفصیل — https://ntmnews.online/?p=1301
شیبہ آئل فیلڈ اور تاسی انڈیکس پر اثر
سعودی توانائی کی وزارت کے مطابق بدھ کو ہی ارامکو کے شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی کوشش کو فضائی دفاع نے ناکام بنایا، اس واقعے میں بھی 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ شیبہ آئل فیلڈ دھہران سے سینکڑوں کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ارامکو ہیڈکوارٹر میں کمپنی کا آپریشنز سینٹر موجود ہے جو ساحلی اور آف شور تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، برآمدی ٹرمینلز اور ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنز کی نگرانی کرتا ہے — اس سہولت میں کسی بھی رکاوٹ کو تیل کی صنعت کے لیے سنگین تشویش سمجھا جاتا ہے۔ انخلا کی خبر کے بعد جمعرات کو سعودی اسٹاک مارکیٹ کا بینچ مارک انڈیکس تاسی 2.5 فیصد گر گیا۔ تیل کی قیمتوں کے تازہ ترین اتار چڑھاؤ پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1411
سعودی عرب کا جواب اور امریکا کا انکار
حوثی حملوں کے جواب میں سعودی عرب نے میزائل لانچنگ سائٹس پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثیوں کے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل روکے ہیں۔ ریاض اپنے اتحادیوں سے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف وسیع تر حمایت بھی مانگ رہا ہے۔ تاہم امریکا، جو سعودی عرب کا سب سے مضبوط اتحادی ہے، نے اب تک حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہ راست شامل ہونے کی سعودی درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کچھ سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔
ماخذ: رائٹرز، بلوم برگ (نیاز ٹی وی نیوز)