پٹرولیم لیوی مذاکرات آج — حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم بات چیت

0

آج (جمعہ 23 اکتوبر) کو وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے درمیان پٹرولیم لیوی پر مذاکرات کا ایک اور دور اسلام آباد میں ہوگا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا ہے، اور دونوں فریقوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات آج شیڈول ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر کے مطابق جے آئی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی بھی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔

مذاکرات کیوں ہو رہے ہیں — پٹرول پر ٹیکس کا بوجھ

پٹرولیم لیوی پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ایک بڑا جزو ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پٹرول پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد ہیں۔ اس وقت پٹرول کی قیمت تقریباً 379 روپے فی لیٹر کے قریب ہے — جس کا ایک بڑا حصہ یہ سرکاری محصولات ہیں۔

گزشتہ روز حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، تاہم جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی میں خاطر خواہ کمی یا اس کے خاتمے کے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملے گا۔

جماعت اسلامی کے مطالبات اور احتجاجی تحریک

جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی میں بڑی کمی یا اس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے آج سے احتجاجی تحریک کے تیسرے مرحلے کا بھی اعلان کر رکھا ہے — جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق آج ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا تیسرا مرحلہ شروع ہوگا۔

اس سے قبل جماعت اسلامی نے ستمبر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی۔ 22 ستمبر کو پارٹی نے وزیراعظم کی درخواست پر ملتان پہنچنے والے لانگ مارچ کو عارضی طور پر ملتوی کیا تھا، جب شہباز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپسی پر پارٹی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

مذاکرات کی تاریخ — تکنیکی کمیٹیاں کیا کر چکیں

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پہلے بھی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ ابتدائی مذاکرات کے نتیجے میں تکنیکی کمیٹیاں قائم کی گئیں جنہیں لیوی میں کمی کے ممکنہ راستے اور صارفین کو ریلیف کے متبادل طریقے تلاش کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے دوران چھ تجاویز بھی پیش کی تھیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ وہ حکومت سے تحریری یقین دہانی چاہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ لیوی وفاقی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اس میں کمی سے مالیاتی خسارہ پیدا ہوگا جسے کہیں اور سے پورا کرنا ہوگا۔

عوام پر اثر — مہنگائی کا دباؤ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہ راست اشیائے خوردونوش، نقل و حمل اور بجلی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی ہفتے ایل پی جی کی قیمت بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی — جس سے توانائی کی مجموعی مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا۔ آج کے مذاکرات کا نتیجہ نہ صرف پٹرول کی قیمتوں بلکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کے رجحان پر بھی اثر ڈالے گا۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز، دی اسٹینڈرڈ، اسلام آباد پوسٹ، پاک ویلز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *