پاکستان ریلوے ایمرجنسی: 55 حادثات کے بعد 3 ماہ کی ایمرجنسی
پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں تین ماہ کی آپریشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایت پر جاری کردہ اس فیصلے کا مقصد ٹرینوں کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 55 سے زائد حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ایمرجنسی 31 دسمبر 2026 تک نافذ رہے گی، اور اس کا پہلا دن اتوار 25 اکتوبر تھا، جب فیلڈ افسران نے آپریشنل مقامات کا دورہ کر کے ٹرین آپریشن کی نگرانی کی۔
فیلڈ افسران کی چھٹیاں منسوخ، اتوار کو بھی ڈیوٹی
ایمرجنسی کے تحت پاکستان ریلوے کے فیلڈ افسران کی ہفتہ وار اور دیگر سرکاری چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اتوار سمیت ہر روز فیلڈ میں موجود رہ کر ٹرین آپریشن کی نگرانی کریں۔ سرکاری کام کے سلسلے میں دوسرے شہروں کا سفر کرنے والے ریلوے افسران کو اب ٹرین کے ذریعے ہی سفر کرنا ہوگا، تاکہ وہ خود مسافروں کے سفر کے حالات کا براہ راست جائزہ لے سکیں۔
روزانہ رپورٹ لازمی، نگرانی کا سخت نظام
محکمے نے نگرانی کا سخت نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز کو اپنے اپنے شعبوں کی روزانہ رپورٹ وزارت ریلوے کو جمع کرانا ہوگی، جبکہ سیفٹی کے سربراہ کو بھی روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ دینا ہوگا۔ لاہور میں ریلوے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد آپریشن کی براہ راست نگرانی بڑھانا اور حفاظت و دیکھ بھال کے معاملات میں جوابدہی کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ محکمہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو ممکنہ حد تک محفوظ ترین سفر فراہم کرنے کے لیے کام کرے گا۔
55 سے زائد حادثات، کئی ڈویژن متاثر
ریلوے ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2026 سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 55 سے زائد حادثات ہو چکے ہیں، جن میں کئی مسافر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ ریلوے کے انفراسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ حالیہ مہینوں میں خانپور کے قریب 10 مال بردار ویگنوں کے پٹری سے اترنے، خیرپور اور کوٹری میں مال گاڑیوں کے حادثات، اور کھاریاں کے قریب پاکستان ایکسپریس کے پٹری سے اترنے جیسے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق سکھر، کراچی اور ملتان ڈویژنوں میں حادثات کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔
مسافروں کے تحفظات اور دیکھ بھال پر سوالات
حادثات کی مسلسل تعداد نے ٹریک کی دیکھ بھال، آپریشنل نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے نفاذ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرین کا سفر ان کے لیے ضروری ہے، اس لیے وہ خطرات کے باوجود سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے قبل بھی وزیر ریلوے کی سخت ہدایات کے باوجود حادثات کا سلسلہ جاری رہا تھا، جس کے بعد اب تین ماہ کی ایمرجنسی کے ذریعے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کی حفاظت کا معاملہ اس سے پہلے بھی خبروں میں رہا ہے، جیسا کہ میانوالی میں مسافر بس اور ٹریلر کے تصادم (https://ntmnews.online/?p=1609) اور راجن پور کے قریب مسافر کوچ کے حادثے (https://ntmnews.online/?p=1189) میں دیکھا گیا تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
ایمرجنسی کے دوران فیلڈ نگرانی، روزانہ رپورٹنگ اور ورکشاپس میں معیار کی جانچ پر زور دیا جائے گا۔ وزیر ریلوے نے مغلپورہ اسٹیل اینڈ کیریج شاپس کا دورہ کر کے رولنگ اسٹاک میں استعمال ہونے والے پرزوں کے معیار کی سخت جانچ کی ہدایت بھی کی تھی۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا نگرانی کے یہ اقدامات حادثات کی تعداد میں حقیقی کمی لا سکیں گے، یا یہ صرف عارضی انتظامی اقدام ثابت ہوں گے۔
ذرائع: 24 نیوز ایچ ڈی، ٹائمز آف کراچی، پرو پاکستانی، ایکسپریس ٹریبیون۔