نیتن یاہو کا ایران حملہ: ٹرمپ نے گرین سگنل نہ دیا

0

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مبینہ طور پر اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل ایران پر مشترکہ حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گرین سگنل مانگا تھا، لیکن واشنگٹن نے انہیں انتظار کرنے کا کہا۔ یہ دعویٰ سی این این کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں دو امریکی عہدیداروں اور ایک اسرائیلی سیکیورٹی ذریعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو “جعلی خبر” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ میں کیا کہا گیا

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکا سے مسلسل رابطہ کیا اور ایران پر حملوں میں امریکی حمایت اور ممکنہ شرکت کی درخواست کی۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ “نیتن یاہو واقعی چاہتے تھے اور انہوں نے ٹرمپ کو انتخابات سے قبل ایران پر مشترکہ حملے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن ٹرمپ نے گرین سگنل نہیں دیا۔”

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی عہدیداروں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک واشنگٹن فوجی کارروائی کے لیے تیار نہ ہو جائے۔ ذرائع کے مطابق امریکا مستقبل قریب میں مشترکہ کارروائیوں پر آمادہ ہو سکتا ہے، لیکن فوری حملے کی منظوری نہیں دی گئی۔

فوجی سربراہ کی وارننگ

رپورٹ کا ایک اہم پہلو اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کی وارننگ ہے۔ سی این این کے مطابق زامیر نے اپنے امریکی ہم منصب جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو خبردار کیا تھا کہ انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کنیسٹ کے انتخابات کو متاثر یا ملتوی کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن نے فوری کارروائی سے گریز کیا۔

الگ سے اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو اور زامیر کے درمیان حال ہی میں کسی غیر واضح فوجی کارروائی کی ہدایت پر اختلاف ہوا تھا، جس کے بارے میں دفاعی عہدیداروں کا خیال تھا کہ وہ انتخابات سے کچھ ہی دن قبل ایران کے ساتھ تیز تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اس بیان کی بھی تردید کی ہے۔

اسرائیلی حکومت کا موقف

نیتن یاہو کے دفتر نے سی این این کی رپورٹ کو واضح طور پر مسترد کیا ہے اور اسے “جعلی خبر” قرار دیا ہے، تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت اس معاملے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی کی خبروں کو انتخابی ماحول سے دور رکھنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کو معاہدے کے لیے الٹی میٹم دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہوا تو نئی فوجی کارروائی ہو سکتی ہے۔ تاہم اتوار کو انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوری حملے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکم ملنے کے 96 گھنٹوں کے اندر بڑی فوجی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

انتخابات کی اہمیت

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمانی اکثریت سے کافی پیچھے ہے، اس لیے ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کی بار بار توثیق بھی انتخابی مہم کا حصہ بن گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں نیتن یاہو کو “شاندار جنگی وزیراعظم” قرار دیا تھا۔

ایران پر ممکنہ حملے کے وقت کا سوال اس لیے بھی حساس ہے کہ اسرائیل کو ایران کی جوابی میزائل کارروائی روکنے کے لیے امریکی مدد کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اسرائیلی میزائل دفاعی ذخائر پر پہلے ہی دباؤ ہے۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی میزائل حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے حملے کے منصوبے فی الحال ملتوی کر دیے ہیں، لیکن امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری جاری ہے، جو ممکنہ طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

نیتن یاہو کی جانب سے ایران کی حکومت گرانے کی مبینہ ہدایت اور فوجی سربراہ سے اختلاف کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2082

ایران پر امریکی حملے کی 96 گھنٹوں میں تیاری کی خبر کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2063

ماخذ: سی این این کی رپورٹ کے حوالے سے نیوز 18 اور ہارٹز کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق؛ نیتن یاہو کے دفتر کی تردید بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *