لیبیا مصر کے سمندری خدشات دور کرنے کو تیار — دبیبہ کا اعلان

0

لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت قومی اتحاد کے وزیر اعظم عبد الحمید دبیبہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مصر کے بحیرہ روم میں سمندری حدود اور اقتصادی پانیوں سے متعلق خدشات دور کرنے کو تیار ہے۔ یہ بات ہفتے کے روز مصر کے انٹیلی جنس چیف حسن رشاد سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہی گئی۔

فون کال میں کیا طے ہوا؟

دبیبہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا مصر کے سمندری خدشات کو دور کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلی فارمولا یا ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔

مصر اور لیبیا زمینی سرحد کے حامل پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان دیرینہ سیکیورٹی اور معاشی تعلقات ہیں، اس لیے مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود کا تنازع دونوں کے لیے حساس معاملہ ہے۔

تنازع کی جڑ کیا ہے؟

تنازع کی جڑ لیبیا اور ترکیہ کے درمیان سمندری حدود کا معاہدہ ہے، جو 2019 میں طرابلس کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے طے کیا تھا۔ لیبیا کی مشرقی انتظامیہ، جو فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر سے منسلک ہے، نے برسوں تک اس معاہدے کی منظوری روکے رکھی، لیکن حال ہی میں مشرقی پارلیمنٹ نے اس کی توثیق کر دی۔

مصر نے بدھ کے روز اس توثیق کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ کالعدم ہے اور اس کا مصر پر کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا۔ یونان اور قبرص بھی لیبیا۔ترکیہ معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ان کی اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

لیبیا کی تقسیم کا پس منظر

لیبیا 2011 کے بعد سے دو حریف حکومتوں میں تقسیم ہے: ایک طرف دبیبہ کی قومی اتحاد حکومت طرابلس میں ہے، جسے اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے، اور دوسری طرف مشرقی حکام حفتر کی حمایت یافتہ انتظامیہ کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس تقسیم نے سمندری حدود، توانائی کی تلاش اور علاقائی سفارت کاری کے ہر معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا تھا کہ لیبیا کی مشرقی اور مغربی حکومتوں کے اتحاد کے حالات سازگار ہو رہے ہیں، اور ایک متحد قومی فوج کی تشکیل پر بھی بات چیت جاری ہے۔ دبیبہ اور مصر کے انٹیلی جنس چیف کے درمیان تازہ رابطہ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا طرابلس اور قاہرہ سمندری حدود کے معاملے پر کسی عملی فارمولے پر پہنچتے ہیں، یا یہ معاملہ مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کی تلاش کے تنازعات کے ساتھ مزید الجھتا ہے۔ مصر کی جانب سے معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے بعد دبیبہ کا یہ بیان کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ترکیہ کا بڑا اعلان — لیبیا کی مشرقی اور مغربی حکومتیں جلد متحد ہوں گی (https://ntmnews.online/?p=1641) اور مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق — پاکستان اور سعودی عرب نے عمل مکمل کر لیا (https://ntmnews.online/?p=1637)

ذرائع: رائٹرز، 24 اکتوبر 2026؛ لیبیا حکومت قومی اتحاد کا دفتر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *