جرمنی: نوجوانوں کے مظاہرے پرتشدد، 200 سے زائد گرفتار
جرمنی میں نوجوانوں کے ملک گیر مظاہروں کے بعد ہفتے کی رات کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ یکم نومبر کی رپورٹوں کے مطابق یہ مظاہرے “جن زی ریگلٹ” یعنی نوجوان نسل کی قیادت میں منعقد ہوئے، جن میں 30 سے زائد شہروں میں دسیوں ہزار نوجوانوں نے تعلیم کے لیے زیادہ فنڈنگ، مہنگائی سے نجات اور لازمی فوجی سروس کے منصوبوں کی مخالفت کا مطالبہ کیا۔ دن کے وقت زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے، لیکن رات ہوتے ہی صورتحال کئی شہروں میں بگڑ گئی۔
فرینکفرٹ میں دکانیں لوٹی گئیں
فرینکفرٹ میں مرکزی مظاہرے سے الگ ماسک پہنے گروہوں نے دکانوں کے شیشے توڑے اور کاروبار لوٹ لیے، جن میں ایک اسلحہ کی دکان بھی شامل تھی۔ پولیس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے چوری شدہ اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ شہر کے مصروف ترین شاپنگ علاقے زائل کو بند کرنا پڑا اور خصوصی یونٹ تعینات کیے گئے۔ فرینکفرٹ پولیس نے 30 سے زائد افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا۔ ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 بائیں بازو کے انتہا پسندوں نے مظاہروں میں گھس کر انہیں پرتشدد بنایا۔
ہیمبرگ اور برلن میں جھڑپیں
ہیمبرگ میں مرکزی مظاہرہ شام 5 بجے کے قریب ختم ہونے کے بعد سیاہ لباس میں ملبوس مظاہرین نے مرکزی بس اسٹیشن کے قریب جلتی ہوئی رکاوٹیں کھڑی کر دیں، جس کے بعد پولیس نے 120 افراد کو حراست میں لیا اور 11 اہلکار زخمی ہوئے۔ برلن میں شام کے مظاہرے کے دوران پولیس نے 56 افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا اور 27 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ کولون میں بھی کیتھیڈرل کے قریب تقریباً 200 افراد کے درمیان بدنظمی ہوئی، جس میں 5 افراد کو حراست میں لیا گیا اور واٹر کینن استعمال کی گئی۔
نوجوان کیا چاہتے ہیں
مظاہرین کے چھ بنیادی مطالبات میں تعلیم میں کٹوتیوں کا خاتمہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نجات، سماجی انصاف اور لازمی فوجی سروس کی مخالفت شامل ہے۔ منتظمین کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جب کہ پولیس کے اعداد کے مطابق فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں مجموعی طور پر 18 ہزار افراد شریک ہوئے۔ یہ مظاہرے فرانس میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کی لہر کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں، جہاں ہفتے کو 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے تھے۔ اتوار کی صبح تک جرمنی کے متاثرہ شہروں میں صورتحال بڑی حد تک پرسکون ہو گئی تھی، لیکن پولیس نے تحقیقات اور نقصان کا جائزہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: لندن میں 139 گرفتار، فلسطین ایکشن مظاہرہ اور فرانس مظاہرے: 3 لاکھ 20 ہزار شرکا۔
ماخذ: انڈین ایکسپریس، قاضی انفارم، ہیرالڈ اور جمہوریت ڈیلی، یکم نومبر 2026۔