بولسونارو: میں برازیل کا منتخب صدر ہوں
برازیل کے شکست خوردہ صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو نے امریکا پہنچنے کے بعد خود کو ملک کا منتخب صدر قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے اتوار کے رن آف انتخاب میں اپنی شکست کو انتخابی دھاندلی قرار دیا، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ برازیل کے انتخابی حکام، عالمی مبصرین اور ان کی اپنی جماعت لبرل پارٹی پہلے ہی صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی جیت کو تسلیم کر چکی ہے۔
بولسونارو بدھ کی صبح اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ہمراہ نجی طیارے سے میامی کے قریب اوپا لاکا ایگزیکٹو ایئرپورٹ پہنچے۔ اس سے قبل وہ ارجنٹائن اور ایکواڈور کے راستے برازیل سے روانہ ہوئے تھے۔ برازیل کی سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ان کے پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، جس کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ بولسونارو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ برازیلین پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر مفرور قرار نہیں دیا گیا ہے۔
بولسونارو کا بیان کیا ہے؟
بولسونارو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ “میں منتخب صدر ہوں، اور جن مجرموں نے برازیل کا انتخاب چرایا وہ ایک مجرمانہ تنظیم کا حصہ ہیں جس نے ظلم قائم کر رکھا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میں یہیں سے اپوزیشن کی قیادت کروں گا۔”
تاہم کچھ ہی دیر بعد جاری کیے گئے ایک ترمیم شدہ بیان میں انہوں نے اپنا لفظ بدل دیا اور خود کو “صدر” کے بجائے “لیڈر” قرار دیا۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ برازیل سے فرار نہیں ہوئے بلکہ اپنے خاندان کی حفاظت اور سیاسی انتقام سے بچنے کے لیے ملک چھوڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ برازیل کی صورتحال کو معمول نہ سمجھا جائے۔
لولا کی جیت اور دھاندلی کے دعوے کا جواب
برازیل کے وفاقی انتخابی عدالت کے سربراہ کیسیو نونس مارکیس نے کہا ہے کہ انتخابات مکمل طور پر قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہوئے۔ لولا نے رن آف میں 40 لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، اور ان کے ووٹوں کا تناسب 51.79 فیصد رہا جبکہ بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ ملے۔
بولسونارو کی اپنی جماعت کے سینیٹ میں رہنما روزیریو مارینہو نے بھی دھاندلی کے دعوے سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “لبرل پارٹی یہ دعویٰ نہیں کر سکتی، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔” انہوں نے بولسونارو کو برازیل کی دائیں بازو کی سیاست کا رہنما ضرور قرار دیا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کا موقف اور امریکا میں قیام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کے انتخاب کو “بہت عجیب” قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ بولسونارو کے صدارتی دعوے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بولسونارو خاندان سے قریبی تعلقات ہیں، اور بولسونارو کے والد سابق صدر جائر بولسونارو اس وقت برازیل میں 2022 کے انتخابی نتائج پلٹنے کی کوشش کے بعد گھر میں نظر بند ہیں۔
بولسونارو نے امریکی صدر اور ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے سفر میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکا سے برازیل کی اپوزیشن کو منظم کریں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یہ کام کس طرح کریں گے۔
یہ پیش رفت برازیل کی سیاست میں جاری کشیدگی کی تازہ کڑی ہے۔ اس سے قبل بولسونارو کی امریکا روانگی اور میامی آمد کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں، اور اب ان کے نئے بیان نے ملک میں سیاسی بحث کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: فلاویو بولسونارو میامی پہنچ گئے، ٹرمپ کی حمایت اور فلاویو بولسونارو امریکا روانہ، پاسپورٹ منسوخ، شکست تسلیم نہیں کی
ماخذ: میتھرو بھومی، ری پبلک ورلڈ، عرب نیوز اور نیو انڈین ایکسپریس، 29 اکتوبر 2026۔